احکام ستر

عورتوں سے کام کاج کرانے سے کیا روزی حرام ہوگی؟

فتوی نمبر :
14791
| تاریخ :
معاشرت زندگی / حجاب و شرعی پردہ / احکام ستر

عورتوں سے کام کاج کرانے سے کیا روزی حرام ہوگی؟

جناب آپ سے سوال ہے کہ ہمارے علاقے میں عورتوں سے کھیتی باڑی ، جانوروں کے لیے چارہ ، پانی لانا، ،مکان کی مرمت کے ساتھ ساتھ عورتیں غم اور خوشی کے موقعوں پر جاتیں ہیں، اس کے علاوہ پردے کا کوئی نظام نہیں ، کیا ان سب کاموں سے ہمارے روزی پر کوئی فرق پڑیگا ، مطلب حلال ہے کہ حرام؟ کیا عورتوں پرکام کروانا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور امور کی انجام دہی سے اگر چہ روزی حرام نہیں ہوتی، مگر عورتوں کو چاہیے کہ پردے کا اہتمام کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن الترمذی: حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا عمرو بن عاصم، قال: حدثنا همام، عن قتادة، عن مورق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان. ( 2/467 رقم الحدیث 1173 )۔
وفی الدرالمختار: (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة الخ (1/406)۔
وفیہ ایضاً: لأنه - عليه الصلاة والسلام - قسم الأعمال بين علي وفاطمة، فجعل أعمال الخارج على علي - رضي الله عنه - والداخل على فاطمة - رضي الله عنها - مع أنها سيدة نساء العالمين بحر. الخ (3/579)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 14791کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بیماری کی وجہ سے زیرِ ناف بال کسی دوسرے شخص سے صاف کرانا

    یونیکوڈ   احکام ستر 0
  • خاتون ٹیچر کا لڑکوں کو ٹیوشن پڑھانے کاحکم

    یونیکوڈ   احکام ستر 0
  • عورتوں سے کام کاج کرانے سے کیا روزی حرام ہوگی؟

    یونیکوڈ   احکام ستر 0
  • مرد کا گھر کی عورتوں کے سامنے صرف دھوتی پہن کر گھومنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام ستر 0
  • عورت کیلئے ملازمت پر جانے کی شرائط

    یونیکوڈ   احکام ستر 0
Related Topics متعلقه موضوعات