مفتی صاحب مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی کا نکاح ہو چکا ہو، ولیمہ کیلئے لوگوں کو دعوت نہ دی جائے بلکہ ان کے گھروں میں کھانا پہنچا دیا جائے اور شادی کی خبر سنادی جائے تو کیا یہ ٹھیک ہے؟ کیونکہ میرا نکاح سعودی عرب میں ہوا تھا اور نکاح کے بعد میں نے اپنے کو سعودی عرب میں ہی رکھا اس لئے عزیز و اقارب میں مشہور کرنے کیلئے اگر اس طرح کیا جائے تو کیا یہ ٹھیک ہے ؟ پلیز مفتی صاحب جلدی جواب عنایت فرمائیں۔
اگر ولیمہ کا معروف و مروّج طریقۂ کار ممکن نہ ہو تو اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ ولیمہ شادی کے دن کے بعد صرف دو دن تک کر سکتے ہیں۔
كما في مرقاة المفاتیح: تحت قوله (أولم ولو بشاة) : أي: اتخذ وليمة، قال ابن الملك: تمسك بظاهره من ذهب إلى إيجابها والأكثر على أن الأمر للندب، قيل: إنها تكون بعد الدخول، وقيل: عند العقد، وقيل: عندهما واستحب أصحاب مالك أن تكون سبعة أيام والمختار أنه على قدر حال الزوج۔اھ (6/ 366)
وفي الهندية: ولا بأس بأن يدعو يومئذ و من الغد وبعد الغد، ثم ينقطع العرس والوليمة، كذا في الظهيرية۔اھ (5/343)