السلام علیکم
مفتی صاحب انشورنس کی شرعی حیثیت کیا ہے?
انشورنس جس کا معنی لغۃً یقین دہانی ہے چونکہ کمپنی انشورنس کرانے والے کو مستقبل کے بعض خطرات سے حفاظت اور بعض نقصانات کی تلافی کی یقین دھانی کرتی ہے، اس لیے اسے انشورنس کمپنی کہتے ہیں ۔انشورنس کمپنی ایک معاملہ ہے جو انشورنس کے طالب اور انشورنس کمپنی کے درمیان ہوتا ہے جس میں انشورنس کمپنی ایک کسٹمر سے ایک معینہ رقم بالاقساط وصول کرتی ہے اور ایک معینہ مدت کے بعد وہ رقم اسے اس کے پسماندہ گان کو حسب شرائط واپس کر دیتی ہے اور ساتھ ہی مقررہ شرح فیصد کے حساب سے اصل رقم کے ساتھ مزید رقم بطور سود دیتی ہے، انشورنس کمپنی کا مقصد اس رقم کے جمع کرنے سے یہ ہوتا ہے کہ اسے دوسرے لوگوں کو بطور قرض دے کر ان سے اعلی شرح پر سود حاصل کرے یا کسی تجارت میں لگا کر یا کوئی جائیداد خرید کر اس سے منافع حاصل کرے، لہذا اس حقیقت کے لحاظ سے انشورنس کا معاملہ ایک سودی کاروبار کا معاملہ ہوتا ہے جو بینک کے کاروبار کے مثل ہے ،دونوں میں فرق صرف شکل کا ہے حقیقت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں، حقیقت میں اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہےکہ اس میں ربوا کے ساتھ غرر بھی پایا جاتا ہے،وہ اس طور پر کہ ایک طرف سے ادائیگی یقینی اور دوسرے طرف سے ادائیگی موہوم ہے، جو قسطیں ادا کی گئی ہے وہ رقم ڈوب بھی سکتی ہے اور اس سے زیادہ بھی مل سکتی ہے ۔ اس کو ’’قمار‘‘ کہتے ہیں، اس لیے مروجہ انشورنس پالیسیاں چاہیے ان کا تعلق زندگی سے ہو یا دیگر اشیاء سے ان میں شرکت سے منع کیا جاتا ہے، لہذا اس سے احتراز واجب ہے۔ البتہ اس کی متبادل صورت تکافل ہے پاک قطر فیملی تکافل کمپنی کے ذریعے تکافل کا معاملہ کر کے اس کی پالیسی لی جائے تو اس کی اجازت ہے۔
وقال الله تعالى : {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
وقال الله تعالى : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [المائدة: 90]
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0