حضرت مفتی صاحب ! لڑکی کے دودھ پینے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا حرام ہے؟ اور لڑکی کا جہاں سے دودھ آتا ہے ٹھیک اس جگہ پر تین بار زبان لگانا سنت ہے یا نہیں؟
اپنی زوجہ کا دودھ پینے سے اگر چہ وہ حرام نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا نکاح ختم ہو جاتا ہے، مگر اس کا پینا حرام ہے اس لیے اگر کوئی شخص فرط جذبات میں بیوی کی چھاتی منہ میں لے لے اور اس سے دودھ نکل آئے تو اُسے نگلے نہیں، بلکہ اس کا تھوک دینا لازم ہے۔ جبکہ تین دفع زبان لگانا نہ تو سنت ہے اور نہ ہی یہ ثابت ہے اس لیے اس قسم کی گمراہی والی باتوں پر توجہ دینے اور ان کو پھیلانے سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (ولم يبح الإرضاع بعد موته) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية اھ (3/ 211)
و فيه ايضاً : مص رجل ثدي زوجته لم تحرم اھ (3/ 225)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وهو تحقيق وجيه؛ لأنه يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها إلا ما تحت الإزار فكذا هي لها أن تلمس بجميع بدنها إلا ما تحت الإزار جميع بدنه حتى ذكره اھ (1/ 293) واللہ اعلم بالصواب