میرے والد صاحب کی زندگی کی انشورنس پالیسی ہے جو 1989 میں شروع ہوئی تھی اور دسمبر 2010 میں ختم ہوئی ، ہر ۶ ماہ کے ہم 7000 ادا کرتے تھے ، 2005 میں جب ہم کو معلوم ہوا کہ زندگی کی انشورنس نا جائز ہے، ہم نے قسطیں ادا کرنا بند کر دی تھی، قسطوں میں ہم نے تقریباً 2,25000 ادا کیے تھے ، 1998 میں 50000 کا بونس بھی لیا تھا ، 2010 میں پالیسی کے اختتام پر انشورنس کمپنی ہم کو 4,75000 ادا کر رہی ہے، میں جاننا چاہوں گا کہ کل رقم میں سے کتنی میرے لیے حلال ہے؟ اور بقایا جو حرام ہے اس کے ساتھ مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ کیا ہم اس حرام رقم کو اپنے غریب رشتہ داروں کو بغیر ثواب کے نیت سے دے سکتے ہیں؟
واضح ہو کہ انشورنس کے معاملات ربا، قمار اور غر پرمشتمل ہونے کی بناء پر شرعاً نا جائز اور حرام ہیں، لہذا سائل کے لیے صرف اتنی رقم وصول کرنا حلال ہے ،جتنی قسطوں کی صورت میں اس نے جمع کی ہے، اس سے زائد لینا جائز نہیں، تاہم جب سائل نے زائد رقم وصول کر لی ہے تو اس رقم کا اصل مصرف تو مالکان ہیں، اب اگر اصل مالکان تک پہنچانا ناممکن ہو( جیسا کہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے) تو پھر اس رقم کا فقراء میں بغیر نیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہے، خواہ وہ غرباء رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔
قال اللہ تعالیٰ: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]
و في أحكام القرآن للجصاص: ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار اھ (2/ 11)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه، (إلی قوله) ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ (6/ 385)
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0