میرا سوال یہ ہے کہ میرا بڑا بھائی جس کا نام محمد شعیب ہے، اس کی شادی کرنے میں ایک ضد ہے کہ گھر والے جس لڑکی سے شادی کا کہیں گے وہ اُس کو ایک بار دیکھنا چاہتاہے، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا دین اس چیز کی اجازت دیتاہے کہ لڑکا، لڑکی ایک بار ایک دوسرے کو دیکھیں، کیونکہ گھر والے اس بات کو نہیں مان رہے ہیں؟
اگرچہ سائل کے بھائی کا مذکور مطالبہ شرعاً ناجائز وحرام نہیں، بلکہ جائز ہے اور ایک نظر دیکھنے کی شرعاً بھی اجازت ہے، بہتر یہ ہے کہ اس دیکھنے سے پہلے والدہ یا بہنیں وغیرہ کسی لڑکی کے اوصافِ مطلوبہ کی بناء پر اُسے پسند کرلیں اور بعد میں محض ایک نظر لڑکے کے دیکھنے کے بعد فیصلہ کرلیا جائے تو اس میں شرعاً بھی کوئی مضائقہ نہیں، مگر اس طرح ہر لڑکی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ قطعاً مناسب نہیں، اس سے احتراز چاہیے۔
في الفقه الإسلامي وٲدلته: وقددل الشرع على جواز رؤية من يريد الرجل خطبتها. روى جابر عن رسول الله صلّى الله عليه وسلم قال: «إذا خطب أحدكم المرأة، فإن استطاع أن ينظر منها إلى ما يدعوه إلى نكاحها، فليفعل»، قال جابر: «فخطبت جارية، فكنت أتخبأ لها، حتى رأيت منها ما دعاني إلى نكاحها، فتزوجتها»(ٳلی قوله) وعن أبي حُمَيد أو حميدة، قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلم: «إذا خطب أحدكم امرأة فلا جناح عليه أن ينظر منها إذا كان إنما ينظر إليها لخِطْبة، وإن كانت لا تعلم» اھ (۷/۲۲،۲۳)۔
ھکذا في المشکاۃ ٲیضا:(ص:۲۶۸) واللہ أعلم بالصواب!