کیا لائف انشورنس جیسا کہ پاکستان میں سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن انشورنس کرتی ہے، جائز ہے یا ناجائز؟ براہِ مہربانی اردو میں جواب سے نوازیں۔
لائف انشورنس کا طریق کار جیسا کہ سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن میں ہوتا ہے، ربا و قمار اور دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس کمپنی کے ذریعہ بیمہ پالیسی لینے سے احتراز لازم ہے ۔ اور اگر بصورتِ مجبوری اس طرح کی پالیسی لینا ضروری ہو گیا ہو تو پھر پاک قطر فیملی تکافل کمپنی کے ذریعہ تکافل کی پالیسی لے سکتے ہیں ۔
كما في قوله تعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
قال الله سبحانه وتعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ). (المائدة: 90)۔
وفي مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر. رواه مسلم (2/ 865)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0