آج کل جو سسٹم رائج ہے تکافل کا، جس کی سرپرستی مفتی تقی عثمانی صاحب فرما رہے ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ صرف تکافل کا ، اور تکافل اور بیمہ میں فرق کی بھی وضاحت کر دیں تو مہربانی ہوگی۔
مروجہ انشورنس کمپنی کے معاملات ربا و قمار اور غرر پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور واجب الاحتراز ہوتے ہیں، جبکہ پاک قطر فیملی تکافل کمپنی کے معاملات ان قباحتوں سے خالی ہونے کے ساتھ ساتھ امدادِ باہمی اور تبرّع کے اصول و ضوابط پر مبنی ہوتے ہیں،اس لئے سائل اگر اس تکافل کمپنی کی کوئی پالیسی لینا چاہے، تو اس کی شرعاً بھی اجازت ہے وہ لے سکتا ہے۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0