مہربانی فرماکر میرے تین سوالوں کا جواب مرحمت فرمادیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں، (1) آج کل تقریباً تمام لوگ ٹیوب لائٹ اور بلپ کی روشنی میں جماع کرتے ہیں، جبکہ میں نے سنا ہے کہ مکمل اندھیرا ہو ، یہ سب سے بہتر ہے یا پھر بہت کم روشنی ہو، (2) میاں بیوی کا ایک ساتھ غسل کرسکتے ہیں؟ میں نے سنا ہے کہ صرف جنابت کا غسل ایک ساتھ کرنے کی احادیث موجود ہیں، (3) مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ غسل کے وقت میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی شرمگاہ پر نظر نہ ڈالیں میرا سوال یہ ہے کہ غسل کے لیے مکمل کپڑے اتارنے پڑتے ہیں اس صورت میں ایک دوسرے کی شرمگاہ پر نظر پڑجانا ایک فطری عمل ہوگا، اور ایک دوسرے کی شرمگاہ پر نظر نہ ڈالنے کی شرط بہت مشکل ہوجائے گی، اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع مکمل اندھیرے میں کرتا ہوں، اور اس کے بعد ایک ساتھ غسل کرتے ہیں تو شرمگاہ پر نظر جانے میں کوئی حرج تو نہیں؟
(1) بہتر یہی ہے کہ ہمبستری کے وقت تیز روشنی رکھنے سے احتراز کیا جائے اور معمولی روشنی کا انتظام ہو۔
(2،3) یہ کوئی لازمی امر یاعبادت نہیں کہ میاں بیوی ایک ساتھ غسل کریں، اور اس دوران ایک دوسرے کے اعضاءمخصوصہ پر نظر پڑنے سے احتراز کریں وغیرہ، بلکہ انہیں یکے بعد دیگرے ضرورت اور وقت کا لحاظ کرتے ہوئے تنہاء اور الگ الگ غسل کا اہتمام چاہئے، البتہ اگر کسی بھی ضرورت کے تحت ایک ساتھ غسل کرنا پڑجائے، تو اس دوران لنگی وغیرہ کے ذریعے اعضاء مخصوصہ کوچھپائے رکھنا آداب غسل کا تقاضہ ہے، پھر اس غسل میں بھی کوئی تخصیص نہیں کہ غسل جنابت ہو یا محض صفائی وغیرہ کے لیے ۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: وَعَنْ يَعْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالتَّسَتُّرَ ; فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ» ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَ: " «إِنَّ اللَّهَ سِتِّيرٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ»(2/431 رقم الحدیث 447)۔
وفیھا ایضاً: (" بِشَيْءٍ ") مِنَ الثَّوْبِ أَوِ الْجِدَارِ أَوِ الْحَجَرِ أَوِ الشَّجَرِ. قَالَ ابْنُ حَجَرٍ: وَحَاصِلُ حُكْمِ مَنِ اغْتَسَلَ عَارِيًا أَنَّهُ إِنْ كَانَ بِمَحَلٍّ خَالٍ لَا يَرَاهُ أَحَدٌ مِمَّنْ يَحْرُمُ عَلَيْهِ نَظَرُ عَوْرَتِهِ حَلَّ لَهُ ذَلِكَ، لَكِنَّ الْأَفْضَلَ التَّسَتُّرُ حَيَاءً مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، وَإِنْ كَانَ بِحَيْثُ يَرَاهُ أَحَدٌ يَحْرُمُ عَلَيْهِ نَظَرُ عَوْرَتِهِ، وَجَبَ عَلَيْهِ التَّسَتُّرُ مِنْهُ إِجْمَاعًا عَلَى مَا حَكَى، الخ (2/431 رقم الحدیث447)۔