السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ میری ساس صاحبہ وفات پا گئی ہیں۔ وفات سے پہلے انہوں نے اپنے بیٹے اور میری بیگم (یعنی اپنی بیٹی) سے یہ کہا تھا کہ میرے کان کی بالیاں، گلے کا لاکٹ اور انگوٹھیاں اللہ کی راہ میں تقسیم کر دینا۔
لیکن جب ان کی وفات ہو گئی تو میری بیگم نے اپنے بہن بھائیوں کو یہ بات یاد دلانے کی کوشش کی، مگر نہ میرے سالے نے یہ بات مانی اور نہ ہی میری سالی نے۔ ان کا کہنا تھا کہ امی نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ اس پر میری بیگم خاموش ہو گئی۔
جب وہ واپس آئیں تو میں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، اس لیے میں مزید کچھ نہ کہہ سکی۔
پھر میری بیگم نے مجھ سے کہا کہ امی کی کچھ رقم میرے پاس محفوظ ہے۔ میرا ارادہ تھا کہ پہلے ان کو اس کے بارے میں بتا دوں، لیکن چونکہ وہ امی کا پہلے والا مال بھی اپنے پاس رکھ چکے ہیں، اسی وجہ سے میں نے ان کو اس رقم کے بارے میں نہیں بتایا۔
لہٰذا اب میری بیگم کا ارادہ ہے کہ امی کی جو تقریباً ڈھائی لاکھ روپے کی رقم میرے پاس موجود ہے، اسے میں خود ہی اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا میری بیگم کے پاس جو تقریباً ڈھائی لاکھ روپے موجود ہیں، انہیں میری مرحومہ ساس کی طرف سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟
اگر ہاں، تو کن کن مصارف میں یہ رقم خرچ کی جا سکتی ہے؟
کیا کسی مستحق بچے کی تعلیم کا خرچہ، مثلاً اس کی فیس، کتابیں، یونیفارم، کپڑے یا آنے جانے کے اخراجات بھی اسی رقم سے ادا کیے جا سکتے ہیں؟
واضح ہو کہ شرعا وصیت اس تملیک کو کہا جاتا ہے جو وفات کے ساتھ معلق ہو (یعنی اس کے لیے ضروری ہے کہ وصیت کرنے والا یہ کہے کہ ’’میرے مرنے کے بعد یا اگر میں مرجاوں یا جب میں مرجاوں (وغیرہ) تو میری فلاں چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنا/میری فلاں چیز کسی کو دیدینا وغیرہ) چنانچہ اگر وفات کے ساتھ معلق کیے بغیر کوئی شخص اپنی ملکیت میں موجود کسی چیز کے بارے میں تقسیم کرنے یا کسی کو دینے کا کہہ دیتا ہے تو یہ شرعا وصیت نہیں کہلاتی، اور نا ہی متعلقہ شخص کی وفات کے بعد ورثاء پر اسکی تعمیل لازم ہوتی ہے، بلکہ یہ محض مرحوم کی خواہش کہلائےگی، مرحوم/مرحومہ کی وفات کے بعد اگر ورثاء بخوشی ور ضامندی اس کی اس خواہش کے مطابق عمل پیرا ہو ں تو بہتر ورنہ شرعا ان کے ذمہ اس خواہش پر عمل لازم نہیں ۔
لہذا صورت مسئولہ میں بھی اگر سائل کی ساس نے اپنی وفات کے ساتھ معلق کیے بغیر صرف یہ کہہ دیا ہو کہ ’’میرے کان کی بالیاں، گلے کا لاکٹ اور انگوٹھیاں اللہ کی راہ میں تقسیم کر دینا‘‘ تو یہ شرعا وصیت نہیں ، بلکہ یہ محض سائل کی ساس صاحبہ کی خواہش تھی،چنانچہ اب مرحومہ کے ورثاء کے ذمہ کان کی بالیاں ، گلے کا لاکٹ اور انگوٹھیاں اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنا شرعا لازم نہیں، لہذا سائل کی بیوی کا والدہ مرحومہ کی اس بات کو بنیاد بناکر مذکور بالیاں، لاکٹ وغیرہ کو راہ خدا میں خرچ کرنا درست نہیں، بلکہ یہ سب مرحومہ کی میراث اور ترکہ ہے جو کہ مرحومہ کی دیگر منقولی اور غیر منقولی مال وجائیداد سمیت تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کرنا لازم ہے، جبکہ سائل کی بیوی کے پاس والدہ مرحومہ کے رکھے گیے ڈھائی لاکھ روپے بھی دیگر ورثاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اللہ کی راہ میں یا کسی مستحق بچی کے تعلیمی اخراجات میں خرچ کرنا شرعا جائز نہیں ۔
في ملتقي الأبحر: (كتاب الْوَصَايَا)الْوَصِيَّة تمْلِيك مُضَاف إِلَى مَا بعد الْمَوْت اه (1/417)
وفي تحفة الفقهاء: أما الْوَصِيَّة فَهِيَ تمْلِيك مُضَاف إِلَى مَا بعد اه (3/205)