میری بیوی کے پاس ساڑھےآٹھ تولہ سونا ہے، جس میں 7 تولہ اس کے والدین نے اسے دیا ہے، جبکہ ڈھائی تولہ میں نے بنا کر دیا ہے، کیا اس سونے پر زکوٰۃ فرض ہے کہ نہیں ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر زکوٰۃ فرض ہو تو اگر نقد رقم موقع پر موجود نہ ہو، تو زکوٰۃ کا رقم تھوڑا تھوڑا کر کے 4 سے 5 ماہ میں ادا کرسکتے ہے، یا اس سونا میں سے دینا لازم ہے۔
قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور مقدار سونا گر بیوی کی ملکیت ہو تو بقدر نصاب ہو نے کی وجہ سے اس پر زکوٰۃ لازم ہے، ا ب اگر اس کی ملکیت لگانے کے بعد اتنی نقدی موجود نہ ہو، جس سے زکوٰۃ کی ادائیگی کی جاسکے، تو مذکور سونے کا چالیسواں حصہ دیا جائے، جبکہ نقدی کے حساب سے تھوڑا تھوڑا کر کے بھی دے سکتے ہیں۔
کما فی الدرالمختار: (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا الخ (2/298)۔
وفیہ ایضاً: (وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) ( الی قولہ) (أو مقارنة بعزل ما وجب) كله أو بعضه، الخ (2/268)۔