زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کی جاسکتی ہے؟یا یکشمت ادا کرنا لازم ہے؟

فتوی نمبر :
98125
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کی جاسکتی ہے؟یا یکشمت ادا کرنا لازم ہے؟

میری بیوی کے پاس ساڑھےآٹھ تولہ سونا ہے، جس میں 7 تولہ اس کے والدین نے اسے دیا ہے، جبکہ ڈھائی تولہ میں نے بنا کر دیا ہے، کیا اس سونے پر زکوٰۃ فرض ہے کہ نہیں ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر زکوٰۃ فرض ہو تو اگر نقد رقم موقع پر موجود نہ ہو، تو زکوٰۃ کا رقم تھوڑا تھوڑا کر کے 4 سے 5 ماہ میں ادا کرسکتے ہے، یا اس سونا میں سے دینا لازم ہے۔
قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور مقدار سونا گر بیوی کی ملکیت ہو تو بقدر نصاب ہو نے کی وجہ سے اس پر زکوٰۃ لازم ہے، ا ب اگر اس کی ملکیت لگانے کے بعد اتنی نقدی موجود نہ ہو، جس سے زکوٰۃ کی ادائیگی کی جاسکے، تو مذکور سونے کا چالیسواں حصہ دیا جائے، جبکہ نقدی کے حساب سے تھوڑا تھوڑا کر کے بھی دے سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا الخ (2/298)۔
وفیہ ایضاً: (وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) ( الی قولہ) (أو مقارنة بعزل ما وجب) كله أو بعضه، الخ (2/268)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 98125کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات