بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!
میرے خاندان اور علاقے میں کسی شخص کے انتقال کے بعد چند رسمیں رائج ہیں، جن کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
1. قبر کو پختہ (سیمنٹ،ٹائلز وغیرہ سے) بنایا جاتا ہے تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ ورثہ غریب ہے یا میت کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔
2. تدفین کے بعد قبرستان سے واپسی پر تمام مردوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔
3. تیسرے دن ختم القرآن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
4. لوگوں کا کہنا ہے کہ چالیس دن تک صبح و شام قبرستان جانا ضروری ہے تاکہ میت اکیلا محسوس نہ کرے یا نہ ڈرے۔اور دفنانے کے بعد ایک اونٹ کے کاٹنے کے لیے قرآن پڑھنا ضروری ہے؟ اسکا ایک ٹائم بتا دوں
5. چالیسویں اور ایک سال مکمل ہونے پر مخصوص تاریخ میں ختم القرآن اور دیگر اجتماعات کیے جاتے ہیں۔
براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت فرمائیں:
1. مذکورہ اعمال میں سے کون سے شرعاً جائز، مستحب، مکروہ یا بدعت ہیں؟
2. میت کو حقیقی اور ثابت شدہ ایصالِ ثواب کن اعمال سے پہنچایا جا سکتا ہے؟
3. اگر خاندان اور معاشرے کا دباؤ ہو تو شریعت پر عمل کرتے ہوئے ایسا کیا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے غیر ضروری رسموں سے بھی بچا جا سکے اور لوگوں کے ساتھ حکمت اور حسنِ اخلاق بھی برقرار رہے؟
جزاکم اللہ خیراً
سائل:علی اعوان
سوال میں مذکور تمام امور، مثلاً محض فخر و نمائش یا لوگوں کے طعن سے بچنے کے لیے قبر کو پختہ بنانا، تیسرے، چالیسویں اور برسی کے موقع پر ختمِ قرآن یا اجتماعات کو ایک مخصوص رسم کے طور پر اختیار کرنا، چالیس دن تک قبرستان جانا ضروری سمجھنا، اور اسی نوعیت کے دیگر مروجہ معمولات، چونکہ قرآن و حدیث اور قرونِ اولیٰ مشہودٌ لہا بالخیر سے ثابت نہیں، اس لیے یہ بدعت کے زمرے میں آتے ہیں، جن سے اجتناب لازم ہے۔
البتہ کسی خاص دن یا تاریخ کی پابندی اور التزام کے بغیر اپنی ذاتی رقم سے میت کی طرف سے صدقہ کرنا، نیز تلاوتِ قرآن اور دیگر نیک اعمال کے ذریعے ایصالِ ثواب کرنا بلا شبہ جائز اور باعثِ اجر ہے۔
اسی طرح تدفین کے بعد اہلِ میت کی جانب سے مروجہ طریقے پر لوگوں کی ضیافت کرنا خلافِ سنت ہے، لہٰذا اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ اگر اس ضیافت کے اخراجات مرحوم کے ترکے سے کیے جائیں، جبکہ ورثاء میں کوئی غائب یا نابالغ بھی ہو، تو یہ شرعاً ناجائز ہے، بلکہ اس صورت میں ان اخراجات کی ذمہ داری خرچ کرنے والوں ہی پر ہوگی۔
البتہ دور دراز مقامات سے جنازہ اور تدفین میں شرکت کے لیے آنے والے میت کے اعزہ و اقارب کی ضرورت کے مطابق کھانے کا انتظام کرنے کی گنجائش ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ اس کا اہتمام اہلِ میت کے بجائے پڑوسی یا دوست احباب کریں۔ نیز بارش وغیرہ کے پانی سے قبر کو محفوظ رکھنے یا قبر کے نشانات مٹ جانے سے بچانے کے لیے اس کے اطراف میں پتھر وغیرہ رکھ کر اسے مضبوط کر دینا جائز ہے، تاہم میت کے محاذات میں قبر کا حصہ بہرحال کچا رہنا ضروری ہے۔
کمافی حاشية ابن عابدين = رد المحتار » : ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص.»(2/ 240 ط الحلبي)
وفی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» : ويسنم القبر قدر الشبر ولا يربع ولا يجصص ولا بأس برش الماء عليه ويكره أن يبنى على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه أو تقضى حاجة الإنسان من بول أو غائط أو يعلم بعلامة من كتابة ونحوه، كذا في التبيين.وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها، كذا في التتارخانية، وهو الأصح وعليه الفتوى»(1/ 166 ط المطبعة الكبري أميرية ،مصر)