کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دف کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اعلان نکاح کے لیے دف ہی استعمال کیا جائے، جبکہ آج کے دور میں دیگر ذرائع ابلاغ مواصلاتی نظام آچکا ہے، دف کی بنسبت دیگر ذرائع سے احسن اعلان ہوسکتا ہے، تو پھر بھی دف کو جائز کیوں کہا جاتا ہے؟ دف کا استعمال کہاں، کب ،کیوں، کس لیے، کس طرح ،کیسے کرنا مانع عن الاسلام نہیں ہے؟ کیا مسجد میں بیٹھ کر دف بجایا جاسکتا ہے؟ خواہ نکاح کے موقع پر یا غیر نکاح کے موقع پر؟ کمپیوٹرائزڈ دف کا کیا حکم ہے ، جو نعتوں میں بجایا جاتاہے؟ کیا ہاتھ والے دف کا حکم کمپیوٹرائزڈ دف پر رائج ہوگا؟
نکاح اور دیگر خوشی کے مواقع پر دف بجانا خواہ وہ سادہ دف ہو یا کمپیوٹرائزڈ دف مندرج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے۔
(1)دف سادہ ہو، اس میں جلا جل (گھنگرو، باجا) نہ ہو، (2) دف بلکل سادہ بجایا جائے، جس میں فنکاروں کا طرز شامل نہ ہو،(3) دف صرف عورتیں بجائیں مرد نہ بجائیں، (4) دف کے ساتھ دیگر محرمات مثلاً آلات موسیقی، ڈھول، باجا، عشقیہ اور شہوت انگیز اشعار شامل نہ ہوں، چنانچہ مذکور شرائط نہ ہوں تو دف بھی دیگر آلات لہو وموسیقی کی طرح حرام ہے، ان شرائط کے ساتھ دف بجا کر اعلان کرنا ہو ، تو مسجد کے علاوہ گھر وغیرہ سے ہو، جبکہ فی زمانہ عام طور پر دیکھا گیا ہے، کہ دف کے جواز کے لیے علماء نے جو شرائط لکھیں ہیں، ان کی رعایت نہیں ہوتی، اس لیے نکاح کے موقع پر بھی حتی الامکان دف سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اسی میں عافیت ہے۔
کمافی التاتارخانیة: سئل ابو یوسف رحمہ اللہ عن الدف فی غیر العرس، أیکرہ؟ قال لا ما یجئی منہ اللعب الفاحش، و الغناء، فأما المرأۃ فی منزلتھا والصبیه فلا کراھة ، وفی السرجیة: لا بأس بأن یکون لیلة العرس دف یضرب لاعلان النکاح، اذا لم یکن لہ جلا جل، ولا یضرب ھیئة التطرب الخ (18/188)۔
وفی فتح العلام شرح بلوغ المرام: والأحادیث فیھا واسعة وان کان فیھا المقال الا أنھا یعضد بعضھا بعضا ویدل علی شرعیة ضرب الدف لانہ أبلغ فی الاعلان من عدمہ، وظاہر الجواب ولعلہ لا قائل بہ أحد فیکون مسنوناولکن بشرط أن لایصیبہمحم من التغنی الصوت الرخیم من امراتہ اجنبیة بشعر فیہ مدح الحدود، بل ینظر الی الاسلوب العزلی الذی کان فی عصرہ صلی علیہ وسلم، فھو المأمور بہ وأما ما أحدث لانس من بعد ذالک فھو غیر المأموربہ و لا کلام أنہ فی ھذہ الاعصاریقترن بمحرمات کثیرۃ فیحرم لذالک لا لنفسہ الخ (2/93)۔
وفی المرقاۃ المفاتیح: (وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَعْلَنُوا هَذَا النِّكَاحَ) أَيْ: بِالْبَيِّنَةِ فَالْأَمْرُ لِلْوُجُوبِ أَوْ بِالْإِظْهَارِ وَالِاشْتِهَارِ فَالْأَمْرُ لِلِاسْتِحْبَابِ كَمَا فِي قَوْلِهِ (وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ) وَهُوَ إِمَّا لِأَنَّهُ أَدْعَى إِلَى الْإِعْلَانِ أَوْ لِحُصُولِ بِرْكَةِ الْمَكَانِ وَيَنْبَغِي أَنْ يُرَاعَى فِيهِ أَيْضًا فَضِيلَةُ الزَّمَانِ لِيَكُونَ نُورًا عَلَى نُورٍ وَسُرُورًا عَلَى سُرُورٍ، قَالَ ابْنُ الْهُمَامِ: " يُسْتَحَبُّ مُبَاشَرَةَ عَقْدِ النِّكَاحِ فِي الْمَسْجِدِ لِكَوْنِهِ عِبَادَةً وَكَوْنِهِ فِي يَوْمَ الْجُمْعَةِ " اه، وَهُوَ إِمَّا تَفَاؤُلًا لِلِاجْتِمَاعِ أَوْ تَوَقُّعَ زِيَادَةِ الثَّوَابِ أَوْ لِأَنَّهُ يَحْصُلُ بِهِ كَمَالُ الْإِعْلَانِ (وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ) أَيْ: عَلَى النِّكَاحِ (بِالدُّفُوفِ) لَكِنْ خَارِجَ الْمَسْجِدِ، وَأَغْرَبَ ابْنُ الْمَلَكِ حَيْثُ قَالَ: " فِيهِ جَوَازُ ضَرْبِ الدُّفِّ فِي الْمَسْجِدِ لِلنِّكَاحِ " اه. وَلَا دَلَالَةَ لِلْحَدِيثِ عَلَى جَوَازِهِ كَمَا لَا يَخْفَى الخ (5/2072 رقم الحدیث 3152)۔