کچھ لوگ نظرِ بد اتارنے کے لیے روپے پورے جسم پر پھیر کر صدقہ کر دیتے ہیں، یا کچھ لوگ انڈے س یا لال مرچ سے نظر اتارتے ہیں، کیا یہ سب طریقے اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے صحیح ہیں؟
نظرِ بد کا اثر ختم کرنے کے لئے درج ذیل کلمات یا معوَّذتین کا پڑھنا اور پانی پر دم کر کے پینا تو خود نبی اکرم ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے اور اسی کا اہتمام چاہیئے ، اور جو طریقہ سائل نے بیان کیا ہے یہ محض ٹوٹکے سے متعلق ہے اور اس سے احتراز ہی لازم ہے۔
«أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ»
ففی مشكاة المصابيح: وعن عوف بن مالك الأشجعي قال: كنا نرقي في الجاهلية فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال: «اعرضوا علي رقاكم لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك» . رواه مسلم اھ (2/ 1280)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وعن «عروة بن مالك - رضي الله عنه - أنه قال: كنا في الجاهلية نرقي فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال اعرضوا علي رقاكم لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك» رواه مسلم وأبو داود اهـ (6/ 429)۔