زکوۃ و نصاب زکوۃ

اسٹے آرڈر والی زمین کی زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
91326
| تاریخ :
2026-01-24
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

اسٹے آرڈر والی زمین کی زکوۃ کا حکم

میرے پاس ایک زمین ہے جس کا مقدمہ قانونی ہے اور متنازعہ ہے۔ یہ زمین خریدوفروخت کے لیے خریدی گئی تھی۔ اس زمین پر عدالت کا حکم امتناعی ہے اس لیے میں اسے منتقل یا فروخت نہیں کر سکتا۔
اسلامی شریعت کے مطابق کیا مجھے اس زمین کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں مذکورزمین سے خریدوفروخت وغیرہ کی صورت میں نفع اٹھانااگر فی الحال سائل کے لئے ممکن نہ ہو ،تو سائل کے ذمہ مذکور زمین کی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فى بدائع الصنائع : فلا تجب الزكاة في المال الضمار عندنا خلافا لهما.
وتفسير مال الضمار هو كل مال غير مقدور الانتفاع به مع قيام أصل الملك.(ج:٢،ص:٩)
و فى الهنديه: ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد.(ج:١،ص:١٧٢)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عاشق یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91326کی تصدیق کریں
0     94
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات