میرے پاس ایک زمین ہے جس کا مقدمہ قانونی ہے اور متنازعہ ہے۔ یہ زمین خریدوفروخت کے لیے خریدی گئی تھی۔ اس زمین پر عدالت کا حکم امتناعی ہے اس لیے میں اسے منتقل یا فروخت نہیں کر سکتا۔
اسلامی شریعت کے مطابق کیا مجھے اس زمین کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
صورت مسؤلہ میں مذکورزمین سے خریدوفروخت وغیرہ کی صورت میں نفع اٹھانااگر فی الحال سائل کے لئے ممکن نہ ہو ،تو سائل کے ذمہ مذکور زمین کی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہ ہوگی۔
كما فى بدائع الصنائع : فلا تجب الزكاة في المال الضمار عندنا خلافا لهما.
وتفسير مال الضمار هو كل مال غير مقدور الانتفاع به مع قيام أصل الملك.(ج:٢،ص:٩)
و فى الهنديه: ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد.(ج:١،ص:١٧٢)