آپ نے ہر جگہ یہ فتویٰ ارشاد فرمایا ہے کہ بریلوی لوگ بدعتی ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ ازراہِ کرم اتنا بتا دیں کہ ہمارے پاس اس بات کا کیا معیار ہے کہ یہ بریلوی بدعتی ہیں؟ اس لیے ہمیں وہ بدعات بیان فرمادیں جن سے ہمیں یہ اندازہ ہو کہ اس بریلوی کے پیچھے نماز پڑھی جائے کہ نہیں ۔ اور بدعت کا بھی تفصیلی بیان فرمائیں کہ یہ بدعت مکروہہ ہے اور یہ بدعت کفریہ، صرف اتنا کہہ دینا کہ اکثر بریلوی لوگ بدعتی ہوتے ہیں، کافی نہیں ہے۔
بریلویوں کی شہرہ آفاق بدعات میں سے چند یہ ہیں:(۱) نبی کریم ﷺ عالم الغیب ہیں (۲) مختارِ کُل ہیں۔ (۳) حاضر ناظرہیں۔ یہ شرکیہ بدعات ہیں۔ جبکہ مجالسِ مِیلاد کا انعقاد، تیجہ، ساتواں، دسواں، چہلم، برسی، گیارہویں شریف منانا، ختم وغیرہ کروانا، اذان سے قبل ’’صلوۃ وسلام‘‘ کا اضافہ ، انگوٹھے چومنا وغیرہ عملی بدعات ہیں۔
تفصیل کیلیے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید رہیگا:’’اختلاف امت اور صرط مستقیم ‘‘ تالیف ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ تعالیٰ۔ ’’دروسِ حرم‘‘ تالیف، فضیلتہ الشیخ محمد خیر محمد مکی (مولانا محمد مکی)۔ ’’مطالعہ بریلویت ’’تالیف،ڈاکٹر خالد محمود۔ ’’راہِ سنت‘‘ تالیف، حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ۔
بریلویوں کے ساتھ تعلقات، شادی بیاہ، ان کے پیچھے نماز اور مختلف رسومات میں شرکت کا حکم
یونیکوڈ بریلوی 0