مفتی صاحب! کیا کسی بریلوی مسلک سے دیوبند پر لانا اس کے والدین کی مرضی کے بغیر جائز ہے؟ اور براہِ کرم بریلوی حضرات جو دلیلیں پیش کرتے ہیں، مجھے ان دلیلوں کے قرآن سے یا حدیث سے غلط ہونا ثابت کردیجیے! میرا سوال سب کے سامنے نہ رکھا جائے۔
بریلوی مکتب فکر کے لوگ عموماً بدعات ورسومات کے مرتکب ہوتے ہیں، لہٰذا کسی شخص کو بدعات ورسومات سے تائب کرواکر اتباعِ سنت پر لانے کیلیے والدین کی اجازت کی ضرورت نہیں، جبکہ بریلوی حضرات کے دلائل اور شبہات کے مدلل جوابات کیلیے شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر مرحوم کی کتابوں کا مطالعہ مفید رہے گا، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
ازالۃ الریب، راہِ سنت، آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کا سرور، تفریح الخواطر، راہِ ہدایت وغیرہ وغیرہ۔ واللہ أعلم بالصواب!
بریلویوں کے ساتھ تعلقات، شادی بیاہ، ان کے پیچھے نماز اور مختلف رسومات میں شرکت کا حکم
یونیکوڈ بریلوی 0