کیا مسجد کی ضرورت سے زائد پیسوں سے کمیٹی ڈال سکتے ہیں ۔کمیٹی کا اندازہ نہیں پہلی ملے یا نہ ملے
واضح ہو کہ اگر مسجد کی رقم ضروریاتِ مسجد سے زائد ہو ، اور متولی اس رقم کی حفاظت کے غرض سے کمیٹی ڈالنا چاہے ،تاکہ وقت آنے پر اس رقم کو مصارف مسجد کے لئے استعمال میں لا سکے ،تو ایسی صورت میں اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، بشرطیکہ وہ کمیٹی مامون بھی ہو ،ور نہ احتیاط ہی بہتر ہے ،لیکن نقصان کی صورت میں کمیتی ڈالنے والا شخص اس رقم کا ضامن ہوگا۔
کمافی الفتاوی الھندیۃ: وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني،الوديعة لاتودع ولاتعار ولاتؤاجر ولاترهن، وإن فعل شيئًا منها ضمن، كذا في البحر الرائق. (ج: 4، ص : 338، ط : الماجدیة)۔ ۔ وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وفي القنية ولا يجوز للقيم شراء شيء من مال المسجد لنفسه ولا البيع له وإن كان فيه منفعة ظاهرة للمسجد(الی قولہ) أن القيم ليس له إقراض مال المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز.۔( باب احکام المسجد،ج : 5 ، ص : 239،)