مہر

تنخواہ کا کچھ حصہ بطور مہر مقرر کرنا

فتوی نمبر :
88435
| تاریخ :
2025-10-30
معاملات / احکام نکاح / مہر

تنخواہ کا کچھ حصہ بطور مہر مقرر کرنا

نکاح میں تنخواہ کا کچھ حصہ ماہانہ بطورِ مہر مقرر کرنا کیسا ہے، جبکہ 12 تولے سونا بھی مہر میں ادا کیا گیا ہو؟ کیا شوہر اگر یہ رقم ادا نہ کرے تو گنہگار ہوگا؟ اور نکاح میں ایسی شرط مقرر کرنا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مہر میں کسی متعین چیز کا طے کرنا ضروری ہے، جو لین دین کے وقت عوض بن سکتی ہو، جبکہ ماہانہ تنخواہ کا کچھ حصہ بطورِ مہر مقرر کرنے کی صورت میں مجموعی مقدار مجہول ہونے کی وجہ سے درست نہیں، البتہ ماہانہ طور پر جیب خرچ کے نام سے بیوی کے لیے کچھ رقم متعین کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر بطورِ مہر بارہ تولہ سونا مقرر کر دیا گیا ہو، اور تنخواہ کا مخصوص حصہ ماہانہ خرچ کے طور پر طے ہو، باقاعدہ مہر کا حصہ نہ ہو، تو چونکہ اس کی فقہی تکییف وعدہ کی ہوگی، لہٰذا شوہر پر اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے اس کی ادائیگی لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وجملة الكلام فيه أن المهر في الأصل لا يخلو إما أن يكون معينا مشارا إليه، وإما أن يكون مسمى غير معين مشارا إليه، فإن كان معينا مشارا إليه صحت تسميته، سواء كان مما يتعين بالتعيين في عقود المعاوضات من العروض والعقار والحيوان وسائر المكيلات والموزونات سوى الدراهم والدنانير أو كان مما لا يتعين بالتعيين في عقود المعاوضات كالدراهم؛ لأنه مال لا جهالة فيه إلا أنه كان مما يتعين بالتعيين ليس للزوج أن يحبس العين ويدفع غيرها من غير رضا المرأة؛ لأن المشار إليه قد تعين للعقد فتعلق حقها بالعين فوجب عليه تسليم عينه، وإن كان مما لا يتعين له أن يحبسه ويدفع مثله جنسا ونوعا وقدرا وصفة؛ لأن التعيين إذا لم يصح صار مجازا عوضا من الجنس والنوع والقدر والصفة،)كتاب النكاح، فصل ومنها أن لا يكون مجهولا جهالة تزيد على جهالة مهر المثل (2/ 282)، ط. دار الكتاب العربي، سنة النشر 1982، مكان النشر بيروت)-
و فی فتاوي قاضي خان: رجل تزوج امرأة علي ان ينفق عليها في كل شهر مائة دينار۔قال ابو حنيفة رحمه الله تعالي النكاح جائز ولها نفقة مثلها بالمعروف. (كتاب النكاح،فصل في النكاح علي الشرط، 293/1، ط:دار الكتب العلمية)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88435کی تصدیق کریں
0     282
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تجدیدنکاح کی صورت میں بیان کردہ مہر کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   اسکین   مہر 1
  • رخصتی سے قبل طلاق ہوجانے کی صورت میں حق مہر کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • نکاح نامہ میں "خصوصی شرائط "کے خانے میں لکھے ہوئے سونے کی حیثیت

    یونیکوڈ   مہر 3
  • خاوند کا واپسی کی صراحت کیساتھ بیوی کا مہر اور سامانِ جہیزفروخت کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • عورت کے انتقال پر مہر اور بوقتِ رخصتی دئے جانے والے تحائف کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر کی عدم ادائیگی پر شوہر کو نقل مکانی سے روکنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • رخصتی سے قبل طلاق کی صورت میں مہر کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 1
  • نکاح نامہ میں , مہر سے ہٹ کر بعنوان گفٹ, لکھی گئی اشیاء کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • دلہن کو شادی پر دیے ہوئے سونے کی واپسی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر کی ادائیگی کے بغیر رخصتی کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • شادی پر دئیے ہوئے سونے کی واپسی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر مقرر کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   مہر 0
  • داماد سے جدائی لینے کی صورت میں حق مہر کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • بیوی کے مطالبۂ طلاق کی صورت میں مہرِ مؤجل کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • بیوی کا, حق مہر ایک بار معاف کردینے کے بعد پھر مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • طلاق کے بعد شوہر کے لیے زیورات کی واپسی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مجلس نکاح میں حق مہر کا ذکر نہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 1
  • بیوی سے زبردستی مہر معاف کروانا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • لڑکی والوں کی طرف سے شادی میں نامعقول شرائط لگاکر رخصتی میں تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • قسطوں میں مہر ادا کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • غیر مؤجل حق مہر کی ادائیگی سے پہلے ہمبستری کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر کی کم از کم مقدار کیا ہے؟

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر میں اختلاف کی صورت میں کونسا مہر لازم ہوگا؟

    یونیکوڈ   مہر 0
  • طلاق کے وقت حق مہرسے دستبرداری کے باوجودشوہرکاحق مہراداکرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • پانچ وقت کی نماز کی پابندی کو حق مہر مقرر

    یونیکوڈ   مہر 0
Related Topics متعلقه موضوعات