نکاح میں تنخواہ کا کچھ حصہ ماہانہ بطورِ مہر مقرر کرنا کیسا ہے، جبکہ 12 تولے سونا بھی مہر میں ادا کیا گیا ہو؟ کیا شوہر اگر یہ رقم ادا نہ کرے تو گنہگار ہوگا؟ اور نکاح میں ایسی شرط مقرر کرنا کیسا ہے؟
واضح ہو کہ مہر میں کسی متعین چیز کا طے کرنا ضروری ہے، جو لین دین کے وقت عوض بن سکتی ہو، جبکہ ماہانہ تنخواہ کا کچھ حصہ بطورِ مہر مقرر کرنے کی صورت میں مجموعی مقدار مجہول ہونے کی وجہ سے درست نہیں، البتہ ماہانہ طور پر جیب خرچ کے نام سے بیوی کے لیے کچھ رقم متعین کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر بطورِ مہر بارہ تولہ سونا مقرر کر دیا گیا ہو، اور تنخواہ کا مخصوص حصہ ماہانہ خرچ کے طور پر طے ہو، باقاعدہ مہر کا حصہ نہ ہو، تو چونکہ اس کی فقہی تکییف وعدہ کی ہوگی، لہٰذا شوہر پر اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے اس کی ادائیگی لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وجملة الكلام فيه أن المهر في الأصل لا يخلو إما أن يكون معينا مشارا إليه، وإما أن يكون مسمى غير معين مشارا إليه، فإن كان معينا مشارا إليه صحت تسميته، سواء كان مما يتعين بالتعيين في عقود المعاوضات من العروض والعقار والحيوان وسائر المكيلات والموزونات سوى الدراهم والدنانير أو كان مما لا يتعين بالتعيين في عقود المعاوضات كالدراهم؛ لأنه مال لا جهالة فيه إلا أنه كان مما يتعين بالتعيين ليس للزوج أن يحبس العين ويدفع غيرها من غير رضا المرأة؛ لأن المشار إليه قد تعين للعقد فتعلق حقها بالعين فوجب عليه تسليم عينه، وإن كان مما لا يتعين له أن يحبسه ويدفع مثله جنسا ونوعا وقدرا وصفة؛ لأن التعيين إذا لم يصح صار مجازا عوضا من الجنس والنوع والقدر والصفة،)كتاب النكاح، فصل ومنها أن لا يكون مجهولا جهالة تزيد على جهالة مهر المثل (2/ 282)، ط. دار الكتاب العربي، سنة النشر 1982، مكان النشر بيروت)-
و فی فتاوي قاضي خان: رجل تزوج امرأة علي ان ينفق عليها في كل شهر مائة دينار۔قال ابو حنيفة رحمه الله تعالي النكاح جائز ولها نفقة مثلها بالمعروف. (كتاب النكاح،فصل في النكاح علي الشرط، 293/1، ط:دار الكتب العلمية)-