جمعہ

گاؤں میں جمعہ کے قیام اور جواز کا حکم

فتوی نمبر :
85492
| تاریخ :
2025-08-22
عبادات / نماز / جمعہ

گاؤں میں جمعہ کے قیام اور جواز کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام و علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ضلع شانگلہ خیبر پختونخوا کے تحصیل پورن میں ہمارا گاؤں ”بونیروال“ مرکزی بازار الوچ سے تقریباً ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلہ پر اونچائی کی طرف واقع ہے۔گاؤں بونیروال کی حدود سے الوچ تک پیدل راستہ تقریباً تیس منٹ کا ہے۔ جبکہ کچی سڑک پر موٹر سائیکل کے ذریعے دس سے بارہ منٹ کا فاصلہ ہے۔ مرکزی بازار الوچ میں نماز جمعہ کے قیام کی تمام شرائط پوری ہیں۔ علاقہ بونیروال (جو دو چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان آمنے سامنے واقع ہے) کو تمام سرکاری کاغذات و دستاویزات جیسے شناختی کارڈ، ووٹرلسٹ، سکول و کالج، تھانہ، تحصیل، ڈومیسائل اور پٹوار وغیرہ میں باقاعدہ ”گاؤں“ کا نام دیا جاتا ہے اور ارد گرد پورے علاقے کے عرف اور استعمال میں بھی یہ ”گاؤں بونیروال“ کہلاتا ہے۔ آسانی کی خاطر گاؤں کے اندر چھوٹی چھوٹی جگہوں اور محلوں کے اپنے نام بھی ہیں، لیکن گاؤں سے باہر کے لوگ اپنی باتوں میں کسی محلے کا نام نہیں لیتے ، بلکہ ”بونیروال“ ہی یاد کرتے ہیں۔ لہذا اصطلاحاً، قانوناً اور عرفاً یہ گاؤں ہی ہے۔ یہ گاؤں تین سو سے زائد گھروں پر مشتمل ہے اور مرد و عورت اور چھوٹے بڑے نفوس کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے، لیکن مذکورہ گھر ایک مقام پر باہم متصل واقع نہیں ہیں، بلکہ دو چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان والے علاقے میں تھوڑے تھوڑے دور منتشر واقع ہیں۔ گاؤں بونیروال میں جگہ جگہ سات آٹھ چھوٹی دکانیں موجود ہیں، لیکن چونکہ بڑا بازار الوچ قریب ہے، اس لئے لوگ زیادہ تر سودا اسی مرکزی بازار الوچ سے لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پورے گاؤں کے اندر مختلف جگہوں میں آٹھ مساجد، چار پرائمری سکول، ایک مڈل سکول، ایک ہائی سکول، ایک ٹیلر کی دکان، دو دواخانے اور چند دینی مکاتب ہیں۔ بازار الوچ اور بونیروال ایک ہی یونین کونسل میں واقع ہیں۔ گاؤں بونیروال کے آس پاس دیگر بستیوں اور گاؤں میں لوگ جمعہ قائم کرتے ہیں۔ تو اب سوال یہ ہے کہ1۔ کیا گاؤں بونیروال کی حدود کے اندر کسی بڑی مسجد میں نماز جمعہ اور عیدین کا قیام جائز ہے ؟ 2۔ اگر جائز ہے تو کیا جمعہ کا قیام صرف جائز ہے یا واجب ہے؟ 3۔ اس گاؤں پر قریہ کبیرہ کا اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں؟4۔اس گاؤں کے باشندوں پر جمعہ اور عیدین کی نماز واجب ہے یا نہیں؟ المستفتی نظام الدین شانگلوی و دیگر اہلیان علاقہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شہر و قصبات اور فناءِ شہریافناءِقصبہ، یعنی شہریاقصبہ کے متعلقہ مضافات میں جمعہ پڑھنا صحیح ہوتا ہے، اور قریہ کبیرہ میں بھی جمعہ کی نماز پڑھنا صحیح ہے،ان کے علاوہ چھوٹےگاؤں اوردیہات میں جمعہ پڑھناحنفیہ رحمہم اللہ کے ہاں جائزنہیں،ہاں اگرحکومت وہاں جمعہ قائم کرنے کاحکم کردے توپھر جمعہ پڑھناصحیح ہوجاتاہے۔ اور کسی جگہ کے گاؤں یا قصبہ اور شہر ہونے کی بنیاد عرف پر ہے ، قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں چالیس، پچاس دکانیں متصل ہوں اور بازار روزانہ لگتا ہو او راس بازار میں ضروریات روز مرہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں مثلاً جوتے کی دوکان بھی ہو، کپڑے کی بھی، عطار کی بھی ہو، بزاز کی بھی، غلّے کی بھی ہو اور دودھ گھی بھی، اور وہاں ڈاکٹر حکیم بھی ہوں وغیرہ، اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہواور پولیس تھانہ یا چوکی بھی، اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں وہاں جمعہ صحیح ہوگا ، اور قریہ کبیرہ کی تعریف عرف میں یہ ہے کہ جس کی آبادی تین سے چار ہزار تک ہو اور اس میں ضروریاتِ زندگی میسر ہوں ، اس میں بھی جمعہ کا قیام درست ہے۔ لہٰذا سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق گاؤں ”بونیر وال“ بظاہران شرائط پرپورانہیں اترتابلکہ یہ شرعاًبھی گاؤں کےحکم میں شمارہوگااوراس میں جمہ کاقیام جائزنہ ہوگااوروہاں کے رہائشی لوگوں پرنمازظہرکی ادائیگی لازم ہوگی ۔ تاہم بہتریہ ہے کہ سائل اوراہلِ علاقہ قریبی دارالافتاء کے مفتیانِ کرام کومسئلہ کی تحقیق کے لیے علاقہ کادورہ کرواکران کے بیان کردہ حکمِ شرعی کے مطابق عمل کرلیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الھدایة: ولا تصح الجمعة إلا فی مصر جامع أو فی مصلی المصر ولا تجوز فی القریٰ لقوله علیه السلام لا جعمة ولا تشریق ولا فطر ولا أضحیٰ إلا فی مصر جامع، والمصر الجامع كل موضع له أمیر وقاض ینفذ الأحكام ولا یقیم الحدود إلخ۔ (باب صلاۃ الجمعۃ، ج 1، ص 168، ط:مجیدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع:أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة ادائھا عندنا حتی لا تجب الجمعة إلا علی أھل المصر ومن كان ساكنا فی توابعه وكذا لا تصح اداء الجمعة إلا فی المصر ومن كان ساكنا فی توابعه وكذا لا تصح أداء الجمعة إلا فی المصر وتوابعه (إلیٰ قوله) وأما المصر الجامع فقد اختلف الأقاویل فی تحدیده ذكر الكرخی أن المصر الجامع ماأقیمت فیه الحدود ونفذت فیه الأحكام، وعن أبی یوسف روایات ذكر فی الاملاء كل مصر فیه منبر و قاض ینفذ الأحكام ویقیم الحدود فھو مصر جامع تجب علی أھله الجمعة وفی روایة قال اذااجتمع فی قریة من لایسعھم مسجد واحد بنی لھم إلاما جامعا ونصب لھم من یصلی بھم الجمعة وفی روایة لو كان فی القریة عشرة آلاف أو اكثر أمرھم بإقامة الجمعة فیھا وقال بعض أصحابنا المصر الجامع مایتعیش فیه كل محترف بحرفته من سنة الی سنة من غیر أن یحتاج إلی الانتقال إلی حرفة أخری وقال سفیان ثوریؒ المصر الجامع ما یعده الناس مصرا عندالأمصار المطلقة وروی عن أبی حنیفةؒ أنه بلدة كبیرة فیھا سكك وأسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحثمه وعلمه أو علم غیره والناس یرجعون إلیه فی الحوادث وھو الأصح إلخ۔ (فصل وأما بیان شرائط الجمعۃ،ج 1، ص 260، ط:سعید)۔
وفی الدر المختار:(ويشترط لصحتھا) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بھا) وعليه فتوى أكثر الفقھاء۔مجتبى لظھور التواني في الأحكام، وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى۔وفي القھستاني:إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي، وإذا اتصل به الحكم صارمجمعا عليه، فليحفظ (أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أولا، كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل، والمختار للفتوى تقديره بفرسخ، ذكره الولوالجي۔(و) الثاني: (السلطان) إلخ۔ (باب الجمعۃ، ج 2، ص 137، ط:سعید)۔
و فیھا أیضاً :تقع ‌فرضا ‌في ‌القصبات والقرى الكبيرة التي فيھا أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتھد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيھا قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة إلخ۔(کتاب الصلوۃ،باب الجمعۃ،ج2،ص138،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85492کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خطبہ اور بیان کے دوران ذکر کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   جمعہ 1
  • جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان دعا دل میں مانگنی چاہیے یا ہاتھ اٹھا کر ؟

    یونیکوڈ   اسکین   جمعہ 0
  • جمعہ کے دن گھرپر ظہر کی نماز کس وقت اداکریں؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 0
  • جمعہ کے پہلے چارسنتیں اگررہ جائے توکیا کرناچاہئے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 0
  • جہاں پنج وقت نماز باجماعت ادا نہ ہو، وہاں جمعہ کی نماز اداہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   جمعہ 0
  • نماز جمعہ سے قبل امام خطبہ دے رہا ہو اس وقت نماز پڑہنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 1
  • فیکٹری میں الگ الگ مسجدوں میں دو نماز جمعہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 0
  • جمعہ سے پہلی والی چار رکعات سنت جمعہ کے بعد پڑھنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 1
  • فیکٹری میں جمعہ کی نماز ادا کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   جمعہ 0
  • جمعہ کے خطبوں کے دوران بیٹھنے کی مخصوص ہیئت-سلام کے بعد سینے پر ہاتھ رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • کمپنی کے اندر کی مسجد میں قیامِ جمعہ

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • گاؤں میں جمعہ قائم کرنے کی شرائط اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 1
  • جمعہ کہاں قائم ہوسکتاہے؟

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • نماز جمعہ مسجد میں پڑہنا - ایک مسجد میں دو نماز

    یونیکوڈ   انگلش   جمعہ 0
  • ملازمین کے کام کے تسلسل کے پیشِ نظر جمعہ کی دو جماعتیں کرانا

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • خطبہ جمعہ کے دوران بیٹھنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • ۵۰ گھروں پر مشتمل گاؤں میں جمعہ قائم کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • ۱۵۰ گھروں پر مشتمل گاؤں میں نمازِ جمعہ کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 1
  • مدرسہ میں جمعہ وعیدین قائم کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 3
  • ایک ہی محلہ کی دو مسجدوں میں نمازِ جمعہ کا قیام

    یونیکوڈ   جمعہ 3
  • تین وقتی نماز کے مصلیٰ پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • جمعہ کے خطبے کے دوران دعائیں مانگنے اور درود شریف پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • نمازِ جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط-قبل از نمازِ جنازہ میت کے دعا-

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • کسی مسجد میں نمازِ جمعہ کے قیام کے لیے پانچ وقتہ نماز کا ہونا ضروری نہیں

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • نماز کیلئے وقف جگہ جو کہ شرعی مسجد نہ ہو وہاں نمازِ جمعہ کی ادائیگی

    یونیکوڈ   جمعہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات