ہماری رہائشی بلڈنگ تقریباً 10 سال پرانی ہے، جس میں تین پارکنگ فلور ہیں، سب سے اوپر کی تیسری پارکنگ میں ایک جائے نماز بنی ہوئی ہے، جہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے، اور 100 سے زیادہ نمازیوں کی گنجائش ہے،اس جائے نماز کے نیچے گاڑیوں کی پارکنگ ہے اور اوپر فلیٹس ہیں،کرونا کے زمانے میں مجبوری کے تحت وہاں جمعہ کی نماز کا بھی آغاز کیا گیا تھا، اُس وقت تو جمعے کی نماز میں جائے نماز تقریباً مکمل بھر جاتی تھی، لیکن اب 40 سے 50 نمازی آتے ہیں،عمارت کے دونوں اطراف میں سڑکیں ہیں، جنہیں پار کرنے کے بعد دونوں طرف مساجد موجود ہیں۔ اب کئی احباب یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ چونکہ اب کرونا کی مجبوری نہیں رہی، اس لیے یہاں جمعے کی نماز کا اہتمام نہیں ہونا چاہیے،لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چند بزرگ حضرات ہیں جو یہیں پر نماز ادا کر لیتے ہیں، ورنہ انہیں اپنی گاڑیوں میں مساجد کی طرف جانا پڑے گا یا ہو سکتا ہے کمزوری کے باعث سُسُتی ہوجائے۔براہِ کرم شریعت کے رو سے اس بارے میں راہنمائی فرمائیں کہ اس جائے نماز پر جُمعہ کی نماز برقرار رکھی جائے یا ترک کردی جائے؟
مذکورہ رہائشی بلڈنگ کے قرب وجوار میں اگر جامع مسجد موجود ہو،تو بہتر اور افضل یہ ہے کہ مذکورہ بلڈنگ میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بجائے قرب و جوار کی مساجد میں نمازِ جمعہ ادا کی جائے،چنانچہ مذکورہ بلڈنگ میں نمازِ جمعہ ترک کر دینے کی وجہ سے اگر فتنے و فساد کا اندیشہ نہ ہو،تو وہاں جمعہ کی نماز کا سلسلہ موقوف کر دینا افضل اور بہتر ہے۔
کما فی مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی : ويشترط لصحتها" أي صلاة الجمعة "ستة أشياء" الأول "المصر أو فناؤه" سواء مصلى العيد وغيره لأنه بمنزلة المصر في حق حوائج أهله وتصح إقامة الجمعة في مواضع كثيرة بالمصر وفنائه وهو قول أبي حنيفة ومحمد في الأصح( الی قولہ) "الإذن العام" كذا في الكنز لأنها من شعائر الإسلام وخصائص الدين فلزم إقامتها على سبيل الاشتهار والعموم حتى غلق الإمام باب قصره أو المحل الذي يصلي فيه بأصحابه لم يجز وإن أذن للناس بالدخول فيه صحت ولكن لم يقض حق المسجد الجامع فيكره اھ (کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجمعۃ، ص، 506،ط:قدیمی کتب خانہ)۔
و فی الھندیۃ: ولو حضر واحد أو اثنان وخطب وصلى بالثلاثة جاز، كذا في الخلاصة ( الی قولہ ) (ومنها الإذن العام) وهو أن تفتح أبواب الجامع فيؤذن للناس كافة حتى أن جماعة لو اجتمعوا في الجامع وأغلقوا أبواب المسجد على أنفسهم وجمعوا لم يجز وكذلك السلطان إذا أراد أن يجمع بحشمه في داره فإن فتح باب الدار وأذن إذنا عاما جازت صلاته شهدها العامة أو لم يشهدوها، كذا في المحيط ويكره، كذا في التتارخانية وإن لم يفتح باب الدار وأجلس البوابين عليها لم تجز لهم الجمعة، كذا في المحيط اھ(الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ج 1،ص 148،ط:ماجدیۃ)۔