کیا فرماتے ہیں علماء اکرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد ہے جس کے نیچے تہہ خانہ گودام بنا ہوا ہے اور مسجد کی آخری والی منزل پرا امام صاحب کا گھر ہے، جس میں وہ گذشتہ آٹھ ، نو ماہ سے قیام پذیر ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ اس گھر کا اکثر حصہ وضو خانہ کے اوپر ہے اور کچھ حصہ مسجد (مصلی) کے اوپر ہے اور حال ہی میں کمپنی کو کچھ نقصان ہوا ہے جس کی ذمے داری امام صاحب پر ڈالی جا رہی ہے کہ امام صاحب نے غیر شرعی رہائش مسجد پر اختیار کی ہوئی ہے اس وجہ سے یہ نقصان ہوا ہے۔ دریافت طلب امور یہ ہیں ۔
(۱) کیا امام صاحب کا اس مصلی کی چھت پر رہائش اختیار کرنا شرعا درست ہے یانہیں؟
(۲) لوگوں کا یہ خیال کہ امام صاحب کی رہائش کی وجہ سے یہ نقصان ہوا ہے یہ درست ہے یا نہیں ؟ المستفتی عبد الله
مذکور مصلی (یعنی جائے نماز )کی چھت پر امام صاحب کا بچوں سمیت رہائش اختیار کرنا شرعا جائز اور درست ہے ،بلا وجہ کمپنی کے نقصان کو امام موصوف کی مذکور رہائش کی طرف منسوب کرنا اور اپنی معاصی سے چشم پوشی کرنا شیطانی دھوکہ ہے، لہذا مذکور ذمہ داروں پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط رویہ سے مکمل احتراز کریں اور امام صاحب کی بلاوجہ دل آزاری کی وجہ سے ان سے بھی معافی مانگی جائے۔
وفي القرآن الكريم: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ } [الحجرات: 12]
وفي الدر المختار: [فرع] لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح اھ (4/ 358)