سوال نمبر: 01 ہم ایک آئل اینڈ گیس کمپنی کے ایک بڑے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، جو قریبی شہر سے تقریباً 5 سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہاں تقریباً 400 سے 500 افراد مستقل طور پر موجود ہیں، اور مستقبل میں یہ تعداد مزید بڑھنے کا امکان ہے، ہم یہاں پچھلے پانچ سال سے مسلسل کام کر رہے ہیں، یہاں پر باقاعدہ ایک مسجد موجود ہے، جہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے، مقام پر کھانا، پینے کا پانی، رہائش، اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی مسلسل دستیاب ہیں، اس علاقے میں سیکیورٹی خدشات بھی کافی ہیں، جس کے پیشِ نظر جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے، مزید یہ کہ جس پلانٹ پر ہم کام کر رہے ہیں، وہ صرف عارضی نوعیت کا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طویل المدتی پروجیکٹ ہے، جس کی متوقع مدت 20 سے 50 سال یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، ابھی یہ فیز تعمیراتی ہے، لیکن جیسے ہی پلانٹ مکمل ہوگا، آپریشنل فیز میں یہاں افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ جگہ مزید آباد ہو جائے گی۔ سوال: کیا اس جگہ پر جمعہ کی نماز قائم کی جا سکتی ہے؟ سب رہائشی عرصہ دراز سے اس بات میں کوئی رعایت چاہتے ہیں، تاکہ جمعہ کی نماز قائم کی جا سکے، جو پانچ سال سے نہیں ہو پارہی۔
اصل یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں اور شہر و قصبات میں صحیح ہے۔ قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں چالیس ، پچاس متصل ہوں ، اور بازار روزانہ لگتا ہو ، اور بازار میں ضروریات روزمرہ کی ملتی ہوں ، مثلاً جوتہ کی دوکان، کپڑے کی، عطارکی، بزاز کی بھی، غلہ کی بھی، اور دودھ کی بھی اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو، معمار ومستری بھی ہوں، وغیرہ وغیرہ اور وہاں ڈاک خانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں۔ پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہونگی وہاں جمعہ صحیح ہوگا ورنہ صحیح نہ ہوگا۔ (ماخوذ از امداد الأحکام: 765/1)۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور جگہ شہر سے 5/6 کلومیٹر دور ہونے کی وجہ سےقصبہ کی تعریف میں بھی داخل نہیں، لہذا اس جگہ جمعہ وعیدین کا قیام شرعاً درست نہیں، اس لئے وہاں کام کرنے والے ملازمین و مزدوروں پر نمازِ جمعہ کے بجائے نمازِ ظہر کا باجماعت اہتمام ہی شرعاً لازم ہے، جمعہ کے قیام کی صورت میں فرض ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا، جمعہ کے قیام کی شرعی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے نماز ظہر باجماعت ادا کرنے سے ان کو پورا پورا اجر و ثواب حاصل ہوگا، نماز جمعہ کا اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے ان کے اجر میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ ان شاءاللہ
کما فی البحر الرائق : (قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي - رضي الله عنه - لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما، وإذا لم تصح في غير المصر فلا تجب على غير أهله. (الی قوله) وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر، وفي المجتبى وعن أبي يوسف أنه ما إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم، وعليه فتوى أكثر الفقهاء وقال أبو شجاع هذا أحسن ما قيل فيه، وفي الولوالجية وهو الصحيح. الخ (باب صلاۃ الجمعه ، ج: 2 ، ص: 140 ، ط: رشیدیہ)۔