السلام علیکم! مولانا صاحب میں بوہری مذہب کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، ہمارے علماء ان کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ کیایہ مسلمان ہیں؟ کیا ہم ان سے شادی کرسکتے ہیں؟ اسی طرح ان سے دوستی وغیرہ کی جاسکتی ہے؟ مہربانی فرماکر ان کے متعلق پوری معلومات مجھے فراہم کریں، میں بہت پریشان ہوں۔ جزاک اللہ!
(۱)۔ اس جماعت کے بانی امام محمد برہان الدین طیب کی نسل میں برابر امامت کا سلسلہ چل رہا ہے، اگرچہ امام طیب خود غائب ہیں، مگر وہ داعی کو برابر ہدایایت دیتے رہتے ہیں اور اماموں کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ائمہ کرام اللہ تعالیٰ کا نور مفترض الطاعۃ اور معصوم ہوتے ہیں، دنیا وآخرت ان کی ملکیت میں ہے، جس کو چاہیں دے دیں اور جس چیز کو چاہیں، حلال کردیں اور جس کو چاہیں، حرام کردیں وغیرہ۔
(۲) سود لینا جائز۔ (۳) دیوالی (مندر سوار) پر وہ بھی روشنی کرتے ہیں۔
(۴) مسجد، جماعت خانہ، قبرستان سب ان کا جدا ہے۔
(۵) کلمہ میں اضافہ اس طرح کرتے ہیں: ’’لا الٰه الا اللہ محمد رسول اللہ مولانا علی ولی ولی اللہ وصی رسول اللہ‘‘۔
(۶) اذان میں ’’أشهد أن محمدا رسول اللہ‘‘ کے بعد ’’أشهد أن مولانا علیا ولی اللہ اور ’’حی علی الفلاح‘‘ کے بعد ’’حی علی خیر العمل محمد وعلی خیر البشر وعشرتها علی خیر العمل‘‘ کا اضافہ ضروری سمجھتے ہیں۔
لہٰذا معروف فرقہ بوہری بھی اپنے باطل عقائد و نظریات کی بناء پر دائرہ اسلام سے خارج اور رافضیوں کی ہی ایک شاخ ہے، جو قرآن کریم میں تحریف، شراب اور زنا کے حلال، خلفاءِ راشدین کے علاوہ دیگر صحابہ کرام سے متعلق معاذاللہ کافر ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے زندیق ہونے پر امتِ مسلمہ کا اجماع ہے، ان کے ساتھ نکاح کرنا، اٹھنا بیٹھنااور دوستانہ تعلقات قائم کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ (از ادیانِ باطلہ اور صراطِ مستقیم: صفحہ ۹۷ تا ۱۰۷)
وفي حاشیة ابن عابدین: يعلم مما هنا حكم الدروز والتيامنة فإنهم في البلاد الشامية يظهرون الإسلام والصوم والصلاة مع أنهم يعتقدون تناسخ الأرواح وحل الخمر والزنا وأن الألوهية تظهر في شخص بعد شخص ويجحدون الحشر والصوم والصلاة والحج، ويقولون المسمى به غير المعنى المراد ويتكلمون في جناب نبينا - صلى الله عليه وسلم - كلمات فظيعة. وللعلامة المحقق عبد الرحمن العمادي فيهم فتوى مطولة، وذكر فيها أنهم ينتحلون عقائد النصيرية والإسماعيلية الذين يلقبون بالقرامطة والباطنية الذين ذكرهم صاحب المواقف. ونقل عن علماء المذاهب الأربعة أنه لا يحل إقرارهم في ديار الإسلام بجزية ولا غيرها، ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم اھ (۴/۲۴۴)۔ والله أعلم!