بوهری

بوہری لڑکے سے سنی لڑکی کی شادی

فتوی نمبر :
60719
| تاریخ :
2004-11-07
ادیان و فرق / جماعت و فرق / بوهری

بوہری لڑکے سے سنی لڑکی کی شادی

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری لڑکی کا ایک رشتہ آیا ہے، لڑکا بوہری ہے اور ہمارا تعلق سنی حنفی مسلک سے ہے، لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتےہیں، لڑکا اس سے شادی کے لیے سنّی ہونے کو تیار ہے اور قرآن ہاتھ میں لے کر حلف بھی اُٹھانے کو تیار ہے کہ وہ شادی کے بعد بھی اپنی بات سے نہیں پھرے گا ، ہمارے بزرگوں کا کہنا ہے کہ قرآن سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور وہ یہ مان کر رشتہ کرنا چاہ رہے ہیں، جبکہ براہ راست وہ اپنے ہم ہذہبوں اور والدین کو اور اپنے مذہب کو برا کہنے سے گُریزاں ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وسنت کے حوالے سے یہ بتائیے کہ یہ رشتہ صحیح ہے یا نہیں؟ اور آیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟ اور مذکور طرزِعمل کے باوجود وہ مسلمان کہلائےگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب تک وہ اپنے مذہب باطل سے برأت اور اپنے ہم مذہبوں کو بُرا کہنے کا اقرار کر کے باضابطہ مذہب اسلام قبول نہ کرے، وہ مسلمان نہیں کہلائےگا اور اگر وہ اس کا اہتمام کر بھی لے تب بھی عموماً ایسے شخص کو اپنی بیٹی بیاہ کر دینے میں انجام کے اعتبار سے کئی خرابیاں مضمر ہیں، اس لیے اس کے بجائے کسی مسلمان رشتہ دار وغیرہ سے اس کا عقدِنکاح کر لینا چاہیے ، اس کے بعد واضح ہو کہ آئندہ بھی اس قسم کی پریشانیوں کا بہترین علاج اتباعِ سنت اور پردہ شرعی کا اہتمام ہے، جس کی طرف توجہ کی اشد ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ﴾ (البقرة: 221)۔
و فی مرقاة المفاتیح: قال الإسبيجابي: اتفقوا على أنه إذا أنكر ربا النساء أي التأخير يكفر اھ (5/1924)۔
وفی الدر المختار: اسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة اھ(3/28)۔
وفی رد المحتارتحت: (قوله: وفي النهر إلخ) بخلاف من خالف القواطع المعلومة بالضرورة من الدين مثل القائل بقدم العالم و نفي العلم بالجزئيات على ما صرح به المحققون و أقول: و كذا القول بالإيجاب بالذات و نفي الاختيار. اهـ (الی قولہ) و بهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة و الحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه و عليهم الصلاة والسلام اھ (3/46)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60719کی تصدیق کریں
0     1084
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بوہری فرقہ کے عقائد و نظریات اور ان کے ساتھ معاملات کا حکم

    یونیکوڈ   بوهری 0
  • کیا بوہری فرقہ کے بارے میں غیر مسلم ہونے کا فتویٰ غلط ہے؟

    یونیکوڈ   بوهری 0
  • بوہری لڑکے سے سنی لڑکی کی شادی

    یونیکوڈ   بوهری 0
Related Topics متعلقه موضوعات