کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی سالی کی بیٹی۔۔۔۔۔ کو گود لیا، اور پھر اس کے اسکول اور تمام دستاویزات میں اپنا نام بطورِ ولدیت کے درج کروایا۔ لیکن اب میرے علم میں یہ مسئلہ آیا ہےکہ کسی کی اولاد کو اس کے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا قرآن و حدیث کی رو سے ناجائز ہے ، لہذا میں اس بچی کی دستاویزات تبدیل کروانا چاہتاہوں ، لیکن کیا یہ مسئلہ اسی طرح ہے جیسا کہ میرے علم میں آیا ہے ؟ کیا واقعی میں قرآن و حدیث میں کسی اور کی اولاد کو دوسرے کی طرف منسوب کرنا ناجائز ہے ؟ اور اب کیا کاغذات میں یہ نام وغیرہ تبدیل کرنا لازمی ہے؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
واضح ہوکہ کسی بچے / بچی کو گود لیکر اس کی پرورش کرنا شرعاً جائز بلکہ کارِ ثواب ہے ، لیکن اس بچے یا بچی کو حقیقی والد کے بجائے پرورش کرنے والے کی طرف منسوب کرنا اور اس سے متعلقہ سرکاری و غیر سرکاری کاغذات میں ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کے بجائے پرورش کرنے والے کا اپنا نام لکھوانا از روئے قرآن و حدیث حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ۔ لہذا سائل نے جو مسئلہ سنا ہے وہ بالکل درست ہے، اس لئے مذکور بچی کے جن تعلیمی اور قانونی دستاویزات میں ولدیت کے خانے میں سائل کا نام لکھا ہوا ہو ان میں ترمیم کرکے ولدیت کے خانے میں سائل کے بجائے حقیقی والد کا نام درج کروانا لازم اور ضروری ہوگا ۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص : ( أدعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ ) الآیۃ ، فیہ إطلاق اسم الإخوۃ و حظر اسم الأبوۃ من غیر جھۃ النسب ولذالک قال أصحابنا فی من قال لعبدہ ھو أخی لم یعتق إذا قال لم أرد بہ الأخوۃ من النسب لأن ذلک یطلق فی الدین وقال ھو ابنی عتق لأن اطلاقہ ممنوع إلا من جھۃ النسب و روی عن النبی ﷺ أنہ قال : من ادعیٰ إلی غیر أبیہ و ھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام إلخ ( ج 2، ص354، ط سھیل اکیڈمی )-
و فی تفسیر ابن کثیر : ( أدعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ ) ھذا أمر ناسخ لما کان فی ابتداء الإسلام من جواز ادعاء الأبناء الأجانب و ھم الادعاء ، فأمر تبارک و تعالیٰ برد نسبھم إلی آبائھم فی الحقیقۃ ، و إن ھذا ھو العدل والقسط والبر ، قال البخاری رحمہ اللہ ( إلی قولہ ) عن عبد اللہ بن عمر قال : إن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مولیٰ رسول اللہ ما کنا ندعوہ إلا زید بن محمد حتیٰ نزل القرآن ( أدعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ ) الآیۃ ( مکتبۃ دار الکتب العلمیۃ، ج 3، ص 510 )-
و فی صحیح البخاری : عن سعد قال سمعت النبی ﷺ یقول: من ادعیٰ إلی غیر أبیہ و ھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام - الحدیث – ( باب من ادعی إلی غیر أبیہ، ج 2، ص 1001، ط قدیمی کتب خانہ )-
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0