چندہ

مسجد کے چندہ سے امام مسجد کی معاونت کرنا

فتوی نمبر :
82095
| تاریخ :
2025-04-17
معاملات / امانات / چندہ

مسجد کے چندہ سے امام مسجد کی معاونت کرنا

السلام عليكم ورحمة الله و بركاته

مکرمی و معظمی مفتیانِ کرام صاحبان
ہمارے زیر انتظام " مسجد " ھے ۔ الحمدلله مسجد میں جمعہ کے چندوں کے علاوہ طلباء و دیگر مسافروں کے لئے کمرہ بھی ہیں جن سے کافی کرایہ آتا ھے، مسجد کے پاس وقف کئے گئے کچھ مکانات بھی ہیں، ان سے بھی کرایہ آتا ھے، الحمدلله مسجد کی آمدات کافی ہیں، دریافت طلب مسئلہ یہ ھے کہ " مسجد کے ائمہ حضرات کی مسجد میں برسہا برس کی خدمات ہیں، صحت کی معذوریوں کی وجہ سے اگر انہیں سبکدوش ہونا پڑا ، تو کیا مسجد کی ان آمدات سے ان کے لئے کسی بھی طرح کی اعانت کا بندوبست شرعاً کیا جا سکتا ھے "، براہِ کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مسجد کو جو چندہ و آمدنی حاصل ہوتی ہے اس رقم کو اسی مسجد کے اخراجات یا مصالح مسجد میں استعمال کرنا شرعاً ضروری ہوتا ہے ، لہذا موجودہ امام مسجد چونکہ مصالح مسجد میں شامل ہے، اس لیے اس رقم سے ان کو وظیفہ اور مراعات دینا تو درست ہے ، لیکن وہ ائمہ جو زمانہ ماضی میں مسجد میں خدمات سر انجام دیتے تھے اور ابھی ان ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوچکے ہیں تو ایسے ائمہ مسجد کی ضروریات میں داخل نہیں ، اس لیے مسجد کے سبکدوش ہونے والے امامو ں کو بھی مسجد کی آمدنی سے تنخواہ دینا جائز نہیں تاہم اگر چندہ دہندہ گان سے اس بات کی اجازت لے لی جائے تو ایسی صورت میں اس رقم سے ان ائمہ کی معاونت کرنے کی گنجائش ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهندية: وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف كذا في الذخيرة، اه(الفصل الثاني في الوقف على المسجد ،ج: ٢، ص: ٤٦٣، مط: ماجدية)
وفي البدائع : والواجب أن يبدأ بصرف الفرع إلى مصالح الوقف من عمارته وإصلاح ما وهي من بنائه وسائر مؤناته التي لا بد منها ، سواء شرط ذلك الواقف أو لم يشرط ؛ لأن الوقف صدقة جارية في سبيل الله تعالى ، ولا تجري إلا بهذا الطريق، اه (كتاب الوقف،ج:٦،ص:٢٢١،مط:سعيد)
وفي الهندية : الفاضل من وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء قيل لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد كذا في المحيط ( الفصل الثاني في الوقف على المسجد ،ج: ٢، ص: ٤٦٣، مط: ماجدية)
وفي رد المحتار : قوله(ويبدأمن غلته بعمارته) قال في الحاوي القدسي والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم ثم السراج و البساط كذلك إلى آخر المصالح هذا إذا لم يكن معينا فإن كان الوقف معينا على شيء يصرف إليه بعد عمارة البناء اه (كتاب الوقف ،ج:٤،ص:٣٦٧،مط:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82095کی تصدیق کریں
0     131
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موت یا کسی حادثہ کی صورت میں تعاون کے لیے ماہانہ چندہ جمع کرنا

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • امانت (چندہ ) کی رقم میں تصرف کرنا

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • چندے کے پیسوں سے ادارہ چلانے اور اپنی تنخواہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • میت کمیٹی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • کسی طالب علم کا اپنی ذات کیلئے چندہ کرنا

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • مسجد کے چندہ سے امام مسجد کی معاونت کرنا

    یونیکوڈ   چندہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات