نماز جمعہ پڑھانے کی صحیح ترتیب کیا ہے؟ اذان و بیان اور خطبہ کس ترتیب سے ادا کرنا چاہیے ؟
نمازِ جمعہ کی مسنون ترتیب حسبِ ذیل ہے:
(1)۔جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی پانچ شرائط ہیں :1.شہر یا قصبہ یا اس کا فنا(مضافات) ہونا۔2.ظہر کا وقت ہونا۔3.ظہر کے وقت میں نمازِ جمعہ سے پہلے خطبہ ہونا۔4.جماعت یعنی امام کے علاوہ کم ازکم تین بالغ مردوں کا خطبے کی ابتدا سے پہلی رکعت کے سجدہ تک موجود رہنا۔5.اذنِ عام (یعنی نماز قائم کرنے والوں کی طرف سے نماز میں آنے والوں کی اجازت) کے ساتھ نمازِ جمعہ کا پڑھنا۔
(2)۔ پہلی اذان:یہ اذان ظہر کے وقت یعنی زوال کے فوراًبعددینامشروع ہےاوراس میں جلدی کرنامستحب ہے تاکہ لوگ نماز جمعہ کے لیے جلدازجلدجمع ہو جائیں۔
(3)۔بیان یا وعظ (اگر کیا جائے):جمعہ کے دن عوام الناس کےمجمع میں بیان یاتقریر کرنا مسنون نہیں ،بلکہ نفع عام کی ضرورت کے تحت ایک معمول کا رائج عمل ہے،اس لیے بہتریہی ہےکہ لوگوں کی معاشرتی ودینی اصلاحی پہلوکومدنظررکھتےہوئے مختصراً وعظ ونصیحت کردیناچاہیے، بیان یاتقریر کو خطبہ نہ سمجھا جائے، خطبہ خاص عبادت ہے جو نماز جمعہ کا رکن ہے، جبکہ بیان نصیحت کی غرض سے ہوتا ہے۔البتہ اگر امام یا مقرر بیان کرنا چاہے تو یہ پہلی اذان کے بعد اور خطبہ سے پہلے کیا جائے تاکہ خطبہ مسنونہ میں غیرضروری تاخیرلازم نہ آئے۔
(4)۔ دوسری اذان (خطبہ سے قبل کی اذان):جب امام منبر پر آ کر بیٹھے تو مؤذن دوسری اذان دے۔
(5)۔ خطبہ جمعہ (دو خطبے):خطبہ جمعہ دو ہوتے ہیں، جن کے درمیان مختصر بیٹھنا سنت ہے،اوریہ قبولیت دعاء کاوقت ہے ،اس لیے اس وقفہ کے دوران دعاؤں کااہتمام کرناچاہیے،البتہ یہ دعاء دل ہی دل میں کی جائے زبان سے الفاظ اداکرنامکروہ ہے۔
خطبہ کی شرائط:
خطبہ عربی زبان میں ہونا ضروری ہے۔
طہارت، سترِ عورت، قبلہ رخ ہونا اور بیٹھ کر درمیان میں وقفہ کرنا مسنون ہے۔
(6)۔ نمازِ جمعہ (دو رکعتیں باجماعت):خطبہ کے بعد فوراً امام دو رکعت نمازِ جمعہ جماعت کے ساتھ پڑھائے۔
کماقال الله تعالى فی التنزیل : ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ۔ الجمعة 9
وفی الجامع لأحكام القرآن للقرطبي : قوله تعالى: "إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ"... "فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ" أي فامضوا إلى الخطبة والصلاة. هذا قول جمهور المفسرين، وهو الصحيح.(تفسير القرطبي، سورة الجمعة: 9)
وفی الجامع الصحیح لمسلم : عن ابن عمر، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول على المنبر: لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات، أو ليختمن الله على قلوبهم، ثم ليكونن من الغافلين. (كتاب الجمعة، حديث: 865)
وفی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع : وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت (1 / 259):
وفی الدرالمختار : وشرطها – أي الخطبة – الوقت، والقيام، والقعود بينهما، والطهارة، والستر، واستقبالهم، والنية، والعربية عند القدرة.(2/156، باب الخطبة)
وفی الھدایۃ : ويصلي بهم ركعتين، لا يتنفل قبلهما في المكان."(1/81)