کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام شریعت اور قرآن پاک کی تعلیم اور احکام کی روشنی میں کہ ایک شخص جس نے اپنی حیاتی میں وصیت کی کہ میری آباد زرعی زمین کا فلاں حصہ میرے فلاں بیٹے کو ملے، تو کیا وہ بیٹا اس وصیت کا وارث ہوگا؟ اور وفات ہونے کے بعد فوت شدہ شخص نے 3 دکان ، 2 مکان اور 39 جریب زرعی زمین وراثت میں چھوڑی ہے، جس کے ورثا میں 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں، واضح رہے کہ 3 دکانوں میں سے فوت شدہ شخص نے ایک دکان ایک بیٹے کو کاغذات سمیت ہبہ دی تھی، دوسری دکان دوسرے بیٹے کو ہبہ کردی اور تیسری دکان دو بیٹوں کے نام کی، اور زرعی زمین جو 39 جریب بتائی گئی ہے وہ اور دو مکان 4 بیٹوں اور 2 بیٹیوں میں کیسے تقسیم ہوں گے؟ اور یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ 4 بیٹوں اور 2 بیٹیوں میں سے فوت شدہ شخص نے 3 بیٹوں اور 1 بیٹی کی شادی جہیز سمیت کردی تھی ، باقی ایک بیٹا اور بیٹی غیر شادی شدہ ہیں، تو محترم استادجی براہ کرم شریعت اور قرآن پاک کی روشنی میں وراثت والی آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ
صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے اپنے بیٹے کے حق میں جو وصیت کی ہے، وہ وارث کے حق میں ہونے کی وجہ سے معتبر نہیں، لہٰذا اس وصیت پر عمل کرنا لازم نہیں، البتہ اگر تمام ورثا عاقل بالغ ہوں اور تمام ورثاء اس وصیت کو نافذ کرنا چاہیں تو اُن کو اس کا اختیار ہے، لیکن ایسا کرنا ان پر لازم نہیں، جبکہ مرحوم نے اگر اپنی زندگی میں مذکور تینوں دکانیں اپنے چاروں بیٹوں کے فقط نام کی ہوں ، ہر ایک کو باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ تقسیم کر کے قبضہ نہیں دیا ہو تو یہ ہبہ شرعاً درست نہیں ہوا، بلکہ مذکور تینوں دکانیں مرحوم کی ملکیت میں رہ کر اب انتقال کی صورت میں دیگر ترکہ کی طرح تمام ورثا میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوں گی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں اگرمرحوم کے یہی ورثا ہوں ، اس کے علاوہ کوئی نہ ہو تو مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کر کے اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دس (10 ) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کودو (2) حصے جبکہ ہر بیٹی کو ایک (1 ) حصہ دیا جائے -
کما فی مرقاۃ المفاتیح: ويروى عن ابن عباس - رضي الله عنهما - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «لا وصية لوارث، إلا أن يشاء الورثة» اھ ( باب الوصایا ج 5 رقم الحدیث: 3074 )۔
و فی الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل الخ ( کتاب الھبۃ ج 5 ص 690 ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض الخ ( کتاب الھبۃ ج 4 ص 374 ط: ماجدیۃ)-