السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم و محترم و مکرم مفتیان کرام دامت برکاتہم العالمیہ ! عرض یہ ہے کہ بندہ ایک فوجی یونٹ (ونگ) میں خطیب ہے۔ ہمیں نماز جمعہ و عیدین کی ادائیگی کے سلسلے میں شریعت کی رو سے آپ کی راہ نمائی کی ضرورت ہے۔ ہماری یونٹ ( ونگ ) پاکستان کی سرحدی علاقہ صوبہ بلوچستان میں پاک ایران بارڈر کی حفاظت کے لیے قیام پذیر ہے۔ اس جگہ کا نام ’’جالگئی‘‘ ہے۔ اس جگہ کا محل وقوع کچھ یوں ہے کہ یہ علاقہ مکمل پہاڑی علاقہ ہے یہاں پر نہ کوئی پکی سڑک ہے نہ بازار نہ دکانیں اور ہوٹل ہے۔ نہ ہسپتال اور نہ ڈاک خانہ کی سہولت موجود ہے۔ یہاں پر چھوٹی چھوٹی بستیاں ہیں جو کہ ہم سے تقریباً 20 سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ان میں سے سرکزئی 200 آبادی کے ساتھ 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور کوئی 300 نفوس پر مشتمل آبادی 28 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور بستی ڈمبانی 350 نفری پر مشتمل آبادی 35 کلومیٹر کے دوری پر واقع ہے ۔ اور کورنگان 200 نفوس پر مشتمل آبادی کے ساتھ 51 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور یہ ساری بستیاں ہم سے مشرقی سمت میں واقع ہے اور ہم سے 2 بڑے شہر جو کہ ایک شہر تربت 148 کلومیٹر کے دوری پر واقع ہے اور دوسرا بڑا شہر پنجگور جو ہم سے 230 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اورہمارے شمالی اور مغربی سمت میں کوئی آبادی نہیں ہے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ایران بارڈر واقع ہے۔ اور جنوب سمت میں تربت شہر 148 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ۔ یہ محل وقوع ہے ونگ کا۔ اب مختصراً یونٹ ( ونگ) کا خدوخال کچھ یوں ہے کہ ونگ، مجموعی طور پر 700 افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ مختلف کمپنیوں کی صورت میں علاقے کے مختلف مقامات پر ڈیوٹی پر مامور ہیں اور یہ کمپنیاں مستقل طور پر وہیں ہے ۔ اور انکا رہن سہن کھانا پینا سب کچھ وہیں ہے ۔ اور ہر کمپنی تقریباً 100 سے 120 افراد پر مشتمل ہوتی ہے ۔ یہ کمپنیاں ونگ کے مین کیمپ یعنی ہیڈ کوارٹر کمپنی سے 20 سے 50 کلومیٹر کے حدود میں ہیں۔ سیکورٹی خدشات کے باعث ان کمپنیوں کے افراد عموماً ہیڈ کوار کمپنی یعنی مین کیمپ میں نہیں آسکتے ہیں۔ ان کے لئے ضروریات زندگی وہی فراہم کی جاتی ہیں۔مین کیمپ (ہیڈ کوارٹر کمپنی ) ایک پہاڑ کے دامن میں واقع ہے یہاں رہنے کے لیے ضروری تعمیرات کی گئی ہیں ۔ اور پنجگانہ نماز کے لیے پکی مسجد بنائی گئی ہے جس میں پانچ وقت باقاعدہ اذان ، اقامت اور باجماعت نماز ادا کی جاتی ہے۔ اور درس و تدریس کا سلسلہ بھی بدستور قائم ہے۔مین کیمپ میں بیک وقت 100 سے 120 نفری موجود ہوتی ہے ۔ کیمپ میں سرکاری کینٹین موجود ہے جس پر بعض اشیاء ضروریہ روزمرہ دستیاب ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر راشن گوشت فریش یا ڈرائی راشن کوئٹہ جیسے بڑے شہروں سے گورنمنٹ مہیا کرتی ہے۔ اور ونگ کیمپ میں حجام درزی اور ورکشاپ ویلڈنگ جیسی سہولیات موجود ہیں۔ ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف ضروری ادویات کے ساتھ موجود ہے ۔ اور ونگ میں نہ فیملی کوارٹرز ہے اور نہ ہی کوئی فیملی رہائش پذیر ہے۔ عرض یہ ہے کہ مندرجہ بالا صورت مسئلہ کا ہمیں قرآن و احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہماری راہ نمائی کی جائے کہ مذکورہ صورت میں ہمارے ہاں جمعہ اور عیدین نماز کی ادائیگی کا کیا حکم ہے ؟ کیا ہم یہاں نماز جمعہ ادا کر سکتے ہیں ؟
ہمارے ونگ کے آفیسرز کی بہت بڑی خواہش اور شوق ہے کہ یہاں نماز جمعہ شروع کی جائے۔ ونگ کیمپ میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر اذن عام نہیں ہے ۔اکثر بارڈروں پر یا پہاڑوں اور جنگلوں میں سیکورٹی کیمپ لگائے جاتے ہیں وہاں آبادی تھوڑی یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے وہاں جمعہ ادا کرنے کا کیا حکم ہے ؟ جہاں شرائط جمعہ نہ پائی جائے وہاں آفیسرز کے آرڈر پر جمعہ پڑھنے کا حکم کیا ہے ؟ جس جگہ پر شرائط جمعہ نہ پائے جانے کی وجہ سے نماز جمعہ ادا کرلی جائے تو لوگوں کے ذمہ ظہر کا فرض رہ جاتا ہے یا نہیں ؟اس کا کیا حکم ہے ؟ لہذا یہاں پر نماز جمعہ اور عیدین ادا کرنا درست ہے یا نہیں؟ ان سوالات ، مسائل اور استفتاء کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب اور فتوی دیا جائے ۔ اجرکم عنداللہ
واضح ہو کہ عند الاحناف صحت جمعہ کے لیے شہر یا قصبہ اور بڑا گاؤں ہونا شرط ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں مذکور مقام ’’جالگئی ‘‘ کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام نہ شہر ہے اور نہ ہی شہر کے مضافات میں واقع ہے ، بلکہ آبادی سے دور ایک صحراء اور بیابان ہے، یا وہاں پر فوجی یونٹ کے افراد کے رہائش اختیار کرنے کی وجہ سے اس کی حیثیت زیادہ سے زیادہ فقط ایک چھوٹے سے گاؤں اور بستی کی ہے، اس لیے احناف کے نزدیک مذکور مقام پر جمعہ قائم کرنا درست نہیں، بلکہ وہاں جمعہ کے دن قیام جمعہ کی بجائے نماز ظہر کی ادائیگی لازم ہے ، ورنہ جمعہ کے نام سے نوافل کی جماعت اور ظہر کے فرض کا ترک لازم آئے گا، جو بہت بڑا گناہ ہے۔
كما في الدر المختار: (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء اھ (2/ 137)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت. أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها (إلى قوله) ولنا ما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع» ، وعن علي - رضي الله تعالى عنه - «لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع» ، وكذا النبي - صلى الله عليه وسلم - «كان يقيم الجمعة بالمدينة» ، وما روي الإقامة حولها، وكذا الصحابة - رضي الله تعالى عنهم - فتحوا البلاد وما نصبوا المنابر إلا في الأمصار فكان ذلك إجماعا منهم على أن المصر شرط؛ ولأن الظهر فريضة فلا يترك إلا بنص قاطع والنص ورد بتركها إلا الجمعة في الأمصار ولهذا لا تؤدى الجمعة في البراري؛ ولأن الجمعة من أعظم الشعائر فتختص بمكان إظهار الشعائر وهو المصر. (1/ 259)۔