السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سیرت کا مطالعہ، سنتوں کی پابندی، درود شریف کی کثرت پورا سال اہتمام کرنی چاہئیں۔ لیکن ربیع الاول مہینے کو حضور ﷺ سے خاص نسبت ہونے کی وجہ سے اگر کوئی (بدعات و رسومات سے بچتے ہوئے، اسکو فرض واجب سمجھے بغیر) باقی مہینوں سے زیادہ اس مہینے میں سیرت و سنتوں کا مطالعہ کرنا، درود شریف کی زیادہ کثرت کرنا، کیا یہ عمل بھی بدعت میں ہی شمار ہوگا ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف اور آپ کی سنتوں پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے زندگی بھر کر کامعمول ہونا چاہیے، تاہم اگر کسی سے متاثر ہوئے بغیر عام مہینوں کے مقابلہ میں ربیع الاول میں اس کا زیادہ اہتمام کیاجائےتو اس میں بھی شرعا کوئی حرج نہیں، تاہم عام ایام کے مقابلہ میں ربیع الاول کے مہینے میں اس کا اہتمام زیادہ باعث اجروثواب سمجھنا بدعت ہونے کی وجہ سے شرعا درست نہ ہوگا۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1