جمعہ

نمازِ جمعہ کی مختلف شرائط کا ذکر

فتوی نمبر :
67581
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / جمعہ

نمازِ جمعہ کی مختلف شرائط کا ذکر

السلام علیکم!

سوال1: نمازِ جمعہ کے لئے کتنے نمازی درکار ہیں؟
2: نمازِ جمعہ کے لئے کیا شرائط ہوتی ہیں؟
3: ایک جمعہ سرکاری چھٹی ہو اور نمازِ جمعہ باجماعت ادا نہ کی گئی ہو تو دوسرے جمعہ نماز باجماعت کروا سکتے ہیں؟ایک گورنمنٹ کا دفتر (فرضی نام A)ہے، جو کہ ایک بلڈنگ /عمارت میں کرائے پر چل رہا ہے، اس بلڈنگ میں اور بھی مختلف دفاتر ہیں، جن میں گورنمنٹ اور پرائیویٹ دونوں دفاتر شامل ہیں، بلڈنگ
کی چوتھی منزل پر دفترA کے ملازمین کام کرتے ہیں، باقی منزلوں پر دوسرے دفاتر کے ملازمین کام کرتے ہیں، اس دفتر Aکے کل ملازمین کی تعداد تقریباً300 سے 400 ہے، دفتر A میں عرصہ دراز سے کوئی مسجد قیام پذیر نہیں ہے اور نہ ہی کبھی کوئی امام صاحب باقاعدہ متعین کیے گئے ہیں، دفترA کے ملازمین دفتر میں نمازِ ظہر باجماعت ادا کرتے ہیں، اور اس مقصد کے لئے دفتر میں سے ہی کسی کو امامت کے لئے کہاجاتا ہے اور وہ نمازِ ظہر پڑھا دیتا ہے، دفتر Aکے سامنے (بیچ میں سڑک موجود ہے) دفتر Bموجود ہے وہاں مسجد بھی ہے اور مسجد کے امام صاحب بھی ہیں، وہاں پر نمازِ جمعہ تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کھلے میدان میں ادا کرواتے ہیں، دفتر Aکی بلڈنگ کے ساتھ دائیں جانب ایک دفترC ہے جس میں بھی مسجد موجود ہے، جس کے امام صاحب مسجد اور اُس کے ساتھ پارکنگ ایریا میں نمازِ جمعہ پڑھاتے ہیں،دفتر Aکے ملازمین پہلے دفتر B اور دفترC کی مساجد میں نماز جمعہ ادا کرتے تھے، لیکن اب 3،2 ہفتوں سے دفتر A کی انتظامیہ نے بلڈنگ میں موجودتیسری منزل پر نمازِ جمعہ ادا کروانا شروع کیا ہے، جس کے لئے دفتر کے ملازمین میں سے ہی کسی ملازم (حافظ صاحب، جو کبھی تراویح، اور جمعہ وغیرہ کہیں پڑھوایا کرتے تھے ) کو نمازِ جمعہ کے لئے منتخب کیا ہے جو نمازِ جمعہ پڑھوارہا ہے،دفتر A میں جمعہ باجماعت ،اذان اور خطبہ بھی ہوتا ہے، یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نمازِ جمعہ صرف اور صرف دفتر Aکے ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ کو پڑھوانے کے لئے دفتر A کی بلڈنگ میں پڑھوایا جاتا ہے، ورنہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا، مزید یہ کہ دفتر A کیوں کہ سرکاری دفتر ہے، اور اس میں نہ تو مسجد ہے اورجس جگہ (منزل) پر نماز جمعہ اداکیا جاتا ہے اس جگہ نہ ہی پانچ وقت کی باجماعت نماز ہوتی ہے، نہ ہی کوئی باقاعدہ امام مسجد اور مؤذن متعین ہے، گرمی میں دفتر میں صرف نمازِ ظہر باجماعت ادا کی جاتی ہے، جس میں دفتر کے ہی ملازم (حافظ، جو امامت کرواسکتا ہے) وقتی امام صاحب بنا کر نماز ظہر ادا کی جاتی ہے، صرف ایک وقت نمازِ ظہر کے لئے اذان دی جاتی ہے، اور اگر وہ وقتی امام صاحب اور مؤذن موجود نہ ہوں یعنی اُن کی چھٹی ہونے پر دوسرے کسی ملازم کے پیچھے نمازِ ظہر باجماعت ادا کی جاتی ہے،سرکاری دفتر کے اوقات کار 9سے 5 ہونے کی وجہ سے گرمیوں میں نماز ظہر ادا کی جاتی ہے، اور 5بجے چھٹی ہونے اور دفتر میں کوئی موجود نہ ہونے کی وجہ سے باقی نمازیں (فجر، عصر، مغرب اور عشاء)باجماعت ادا نہیں کی جاتی ہے ،اور نہ ہی اذان دی جاتی ہے ، اور دفتر کو تالا لگا کر بند کر دیا جاتا ہے،جس میں تیسری منزل بھی شامل ہے، جہاں پر ظہر کی اور جمعہ کی نمازِ باجماعت ادا کی جاتی ہے،اِس کے علاوہ اگر عیدین، یا کوئی اور سرکاری چھٹیاں، جیسے ہفتہ اتوار، محرم الحرام، مکمل لاک ڈاؤن، ہڑتال کی صورت میں اگر سرکاری دفتر میں چھٹیاں چل رہی ہوں تو نمازِ جمعہ تو دور, اس کے علاوہ نمازِ ظہر بھی باجماعت ادا نہیں ہوتی، اور نہ ہی اذان دی جاتی ہے،جون 2023کے مہینے میں عید الضحیٰ کے موقع پر جمعہ مبارک کے دن سرکاری چھٹی تھی، اِس لئےدفتروں کو تالے لگے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے نمازِ جمعہ باجماعت ادا نہیں کی گئی، لیکن جب عید کی چھٹیوں کے بعد سرکاری دفاتر دوبارہ کھل گئے ہیں تو پھر نمازِ جمعہ ادا کی گئی ہے،کیا ایسا کرنا درست ہے؟ یعنی جس دن جمعہ کی چھٹی ہوجائے اُس دن جمعہ نہ پڑھااور پڑھایا جائے، اور اگر جمعہ کو دفتر کھلا ہوتو نمازِجمعہ کے انتظامات کر دیے جائیں؟ جو لوگ دفتر Aمیں اِس طرز پر جمعہ پڑھ رہے ہیں کیا اُن کا جمعہ ہوجائے گا؟ اور اگر نہیں ہوا تو اُن کے ادا کردہ جمعہ کی نمازوں کاکیا حکم ہے؟سردیوں میں دن چھوٹے ہونے کی وجہ سے عصر کی نماز باجماعت ادا کر لی جاتی ہے، کیونکہ اس وقت دفتر کھلا ہوتا ہے،اور نماز عصر کا وقت 3سے 4 کے درمیان ہوتا ہے، جبکہ دفتر کا وقت 9 سے 5 ہوتا ہے، کبھی کبھی نمازِ مغرب بھی باجماعت ادا کر لی جاتی ہے، کیونکہ وہ بھی 5بجے تک ہوتی ہے، عشاء کی نماز تیسری منزل پر کبھی بھی باجماعت ادا نہیں کی جاتی،اور نہ ہی فجر کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے،کیا نمازِ جمعہ پڑھنے کے لئے اُس جگہ پر 5 نمازوں کا ہونا شرط ہے؟ اور کیا 5 وقت کی اذان دینا بھی شرط ہے؟ کیا نماز باجماعت پڑھنے یا پڑھوانے سے نمازِ جمعہ بھی پڑھوا سکتے ہیں؟ کیا نمازِ جمعہ کے لئے مسجد کا ہونا شرط ہے؟ کیا نمازِجمعہ کے لئے نمازیوں کی تعداد کا ہونا شرط ہے؟ کتنے نمازی(افراد) ہوں تو نمازِ جمعہ باجماعت ادا کی جاسکتی ہے؟ کیا کسی آفیسر کو خوش کرنے کے لئے یا پھر اُس کو آرام پہنچانے کے لئے (کہ وہ باہر پیدل چل کر جائے گا تو راستے میں سڑک کی گندگی سے یا کوئی اور مسئلہ نہ بنے) تو نمازِ جمعہ ادا کروائی جاسکتی ہے؟ جب تک وہ آفیسر دفترA کا سربراہ ہے دفتر A میں نمازِ جمعہ باجماعت ہوا کرے گا، اور جب آفیسر چلا جائے (ریٹائر ہوجائے) تو شاید پھر دفتر A میں جمعہ کی نماز باجماعت ادا نہ ہو، نیا آفیسر نئے قانون۔


قرآن و سنت اور احادیث کی روشنی اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حوالہ جات کے ساتھ جواب درکار ہے؟ تفصیلی جواب فتویٰ کے ساتھ درکار ہے، تاکہ دفترA کی انتظامیہ اور نمازیوں کو بھی پڑھایا جاسکے، وضاحت کردیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نمازِ جمعہ کی صحت کیلئے کسی مسجد وغیرہ میں پانچ وقتہ نماز باجماعت اداکر نا لازم اور ضروری نہیں اور نہ کثیر تعداد میں نمازیوں کا موجود ہونا لازم اور ضروری ہے، اسی طرح نمازیوں کے موجود نہ ہونے یا کسی اور عذر کی وجہ سے کبھی کبھار وہاں جمعہ نہ پڑھنا بھی صحتِ جمعہ پر اثر انداز نہ ہوگا، بلکہ جس جگہ صحتِ جمعہ کیلئے فقہاءِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے ذکر کردہ شرائط موجود ہوں اور امام کے علاوہ کم ازکم تین عاقل بالغ مقتدی موجود ہوں تو وہاں جمعہ پڑھنا درست ہوگا،لہذا اگر مذکور دفتر شہر یا بڑی بستی میں ہو (جیسا کہ سوال سے معلوم ہورہا ہے ) تو اس دفتر میں اگر چہ پانچ وقتہ نماز باجماعت اور اذان کا اہتما م نہ ہوتا ہو اور کبھی کبھی کسی وجہ سے وہاں جمعہ کی نماز ترک کی جاتی ہو تب بھی وہاں پر جمعہ پڑھنا جائز اور درست ہوگا ،تاہم بہتر یہ ہے کہ اگر قرب و جوار میں جامع مسجدموجود ہو تو بجائے کسی دفتر میں جمعہ ادا کرنے کے ،اس جامع مسجد میں بڑے اجتماع کیساتھ نماز پڑھنے کااہتمام کرنا چاہیئے کہ یہ زیادہ باعثِ اجر و ثواب ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار : (و تؤدى في مصر واحد بمواضع كثيرة) مطلقا على المذهب و عليه الفتوى(2/145)۔
و فی ردالمحتار : (قوله مطلقا) أي سواء كان المصر كبيرا أو لا و سواء فصل بين جانبيه نهر كبير كبغداد أو لا و سواء قطع الجسر أو بقي متصلا و سواء كان التعدد في مسجدين أو أكثر هكذا يفاد من الفتح ، و مقتضاه أنه لا يلزم أن يكون التعدد بقدر الحاجة كما يدل عليه كلام السرخسي الآتي (قوله على المذهب) فقد ذكر الإمام السرخسي أن الصحيح من مذهب أبي حنيفة جواز إقامتها في مصر واحد في مسجدين و أكثر به نأخذ لإطلاق «لا جمعة إلا في مصر» شرط المصر فقط اھ(1/145)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
احمداللہ مولاداد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67581کی تصدیق کریں
0     2192
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خطبہ اور بیان کے دوران ذکر کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   جمعہ 1
  • جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان دعا دل میں مانگنی چاہیے یا ہاتھ اٹھا کر ؟

    یونیکوڈ   اسکین   جمعہ 0
  • جمعہ کے دن گھرپر ظہر کی نماز کس وقت اداکریں؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 0
  • جمعہ کے پہلے چارسنتیں اگررہ جائے توکیا کرناچاہئے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 0
  • جہاں پنج وقت نماز باجماعت ادا نہ ہو، وہاں جمعہ کی نماز اداہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   جمعہ 0
  • نماز جمعہ سے قبل امام خطبہ دے رہا ہو اس وقت نماز پڑہنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 1
  • فیکٹری میں الگ الگ مسجدوں میں دو نماز جمعہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 0
  • جمعہ سے پہلی والی چار رکعات سنت جمعہ کے بعد پڑھنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جمعہ 1
  • فیکٹری میں جمعہ کی نماز ادا کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   جمعہ 0
  • جمعہ کے خطبوں کے دوران بیٹھنے کی مخصوص ہیئت-سلام کے بعد سینے پر ہاتھ رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • کمپنی کے اندر کی مسجد میں قیامِ جمعہ

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • گاؤں میں جمعہ قائم کرنے کی شرائط اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 1
  • جمعہ کہاں قائم ہوسکتاہے؟

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • نماز جمعہ مسجد میں پڑہنا - ایک مسجد میں دو نماز

    یونیکوڈ   انگلش   جمعہ 0
  • ملازمین کے کام کے تسلسل کے پیشِ نظر جمعہ کی دو جماعتیں کرانا

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • خطبہ جمعہ کے دوران بیٹھنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • ۱۵۰ گھروں پر مشتمل گاؤں میں نمازِ جمعہ کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 1
  • مدرسہ میں جمعہ وعیدین قائم کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 3
  • ۵۰ گھروں پر مشتمل گاؤں میں جمعہ قائم کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • ایک ہی محلہ کی دو مسجدوں میں نمازِ جمعہ کا قیام

    یونیکوڈ   جمعہ 3
  • تین وقتی نماز کے مصلیٰ پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • جمعہ کے خطبے کے دوران دعائیں مانگنے اور درود شریف پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • نمازِ جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط-قبل از نمازِ جنازہ میت کے دعا-

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • کسی مسجد میں نمازِ جمعہ کے قیام کے لیے پانچ وقتہ نماز کا ہونا ضروری نہیں

    یونیکوڈ   جمعہ 0
  • نماز کیلئے وقف جگہ جو کہ شرعی مسجد نہ ہو وہاں نمازِ جمعہ کی ادائیگی

    یونیکوڈ   جمعہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات