السلام علیکم! سر میں یورپ میں رہتا ہوں ، تو زنا سے بچنے کیلئے کیا میں کسی عیسائی لڑکی سے مخصوص مدت کیلئے نکاح کر سکتا ہوں؟
واضح ہو کہ مسلمان مرد کیلئے عیسائی لڑکی سے نکاح فی نفسہ جائز اور درست ہے، تاہم موجودہ دور کے عیسائی فقط نام کے عیسائی ہوتے ہیں، اور حقیقت میں دہریہ اور منکرِ خدا ہوتے ہیں ، اس لیے اُنکی عورتوں کا بھی وہی حکم ہے ، جو دیگر مشرکین کی عورتوں کا ہے، البتہ جو لوگ حقیقتاً نصرانیت پر قائم ہوں، تو اُنکی عورتوں کے ساتھ نکاح کرنا اب بھی فی نفسہ جائز ہے، مگر بہت سے مفاسد اور خرابیوں کی بناء پر جمہور صحابہؓ وتابعینؒ اُنکی عورتوں کے ساتھ نکاح کو مکروہ سمجھتے تھے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں دو تین صحابہ کرامؓ نے اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح کر لیا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تو پتہ چلا تو سخت ناراض ہوئے اور حکم دیا کہ ان کو طلاق دیں۔
جبکہ مخصوص مدت کیلئے کسی بھی عورت (خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی وغیرہ) کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں، لہذا سائل کیلئے عیسائی عورت کیساتھ نکاح سے اجتناب لازم ہے، بلکہ اُس کو چاہیئے کہ کسی مسلمان عورت سے نکا ح کرے، ورنہ مجبوری کی صورت میں شہوت کو توڑنے اور کم کرنے کیلئے روزے کثرت سے رکھے، ان شاء اللہ اس سے شہوت میں کمی آئے گی۔
کما فی التفسير المظهري : قال ابن همام نكح حذيفةؓ و طلحةؓ و كعب بن مالكؓ كتابيات فغضب عمر رضى الله عنه فقالوا انطلق يا امير المؤمنين؟ و هذه القصة تدل على جواز النكاح حتى يترتب عليه الطلاق و على كراهته اھ (3/ 41)۔
و فی مصنف ابن أبي شيبة: عن ابن عمرؓ «أنه كره نكاح نساء أهل الكتاب»، و قرأ {و لا تنكحوا المشركات حتى يؤمن}۔الحدیث (3/ 475)۔
و فی الدر المختار : (و صح نكاح كتابية) ، و إن كره تنزيها (مؤمنة بنبي) مرسل (مقرة بكتاب) منزل، و إن اعتقدوا المسيح إلها اھ (3/ 45)۔واللہ اعلم