متعہ و نکاح مسیار

نکاح المسیار کی صحیح تعریف اور اسکا حکم

فتوی نمبر :
33029
| تاریخ :
2018-02-11
معاملات / احکام نکاح / متعہ و نکاح مسیار

نکاح المسیار کی صحیح تعریف اور اسکا حکم

نکاح المسیار کی صحیح تعریف اور اس پر مکمل دلائل کے ساتھ حکم واضح فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

’’نکاح المسیار‘‘ ایسے نکاح کو کہا جاتا ہے کہ جس میں مرد، عورت سے کچھ مدت تک کیلئے نکاح کرتا ہے، ایسے نکاح کے حکم میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ نکاح مدت کی تصریح کے ساتھ ہو تو نکاح مؤقت یا متعہ کی ایک قسم ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، اور اگر بوقتِ عقد مدت کی صراحت نہ ہو لیکن فریقین یا دونوں میں سے کسی ایک کے دل میں یہ نیت ہو کہ ایک مخصوص مدت گزرنے کے بعد طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کرلی جائے گی تو اس صورت میں اگرچہ فقہاء کی تصریحات کے مطابق نکاح منعقد ہوجاتاہے، لیکن اس ارادے کے ساتھ نکاح کرنا بھی بہت سے مقاصدو مصالح نکاح کے خلاف ہونے کی وجہ سے شرعاً مکروہ ہوگا، اس لئے حتی الوسع اس سے احتراز چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وبطل نکاح متعۃ وموقت) وإن جہلت المدۃ أو طالت فی الأصح ولیس منہ مالو نکحہا علی أن یطلقہا بعد شہر أو نوی مکثہ معہا مدۃ معینۃ۔ الخ (ج۳، ص۵۱)۔
وفی فتح القدیر: أمّا لو تزوج وفی نیتہ أن یطلقہا بعد مدّۃ نواہا صح۔ الخ (ج۳، ص۱۵۲) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حکمت السلاوسی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 33029کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نکاح المسیار کی صحیح تعریف اور اسکا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   متعہ و نکاح مسیار 0
  • عیسائی لڑکی سے مخصوص مدت کے لئےنکاح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   متعہ و نکاح مسیار 0
Related Topics متعلقه موضوعات