نکاح المسیار کی صحیح تعریف اور اس پر مکمل دلائل کے ساتھ حکم واضح فرمائیں۔ شکریہ
’’نکاح المسیار‘‘ ایسے نکاح کو کہا جاتا ہے کہ جس میں مرد، عورت سے کچھ مدت تک کیلئے نکاح کرتا ہے، ایسے نکاح کے حکم میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ نکاح مدت کی تصریح کے ساتھ ہو تو نکاح مؤقت یا متعہ کی ایک قسم ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، اور اگر بوقتِ عقد مدت کی صراحت نہ ہو لیکن فریقین یا دونوں میں سے کسی ایک کے دل میں یہ نیت ہو کہ ایک مخصوص مدت گزرنے کے بعد طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کرلی جائے گی تو اس صورت میں اگرچہ فقہاء کی تصریحات کے مطابق نکاح منعقد ہوجاتاہے، لیکن اس ارادے کے ساتھ نکاح کرنا بھی بہت سے مقاصدو مصالح نکاح کے خلاف ہونے کی وجہ سے شرعاً مکروہ ہوگا، اس لئے حتی الوسع اس سے احتراز چاہئے۔
کما فی الدر المختار: (وبطل نکاح متعۃ وموقت) وإن جہلت المدۃ أو طالت فی الأصح ولیس منہ مالو نکحہا علی أن یطلقہا بعد شہر أو نوی مکثہ معہا مدۃ معینۃ۔ الخ (ج۳، ص۵۱)۔
وفی فتح القدیر: أمّا لو تزوج وفی نیتہ أن یطلقہا بعد مدّۃ نواہا صح۔ الخ (ج۳، ص۱۵۲) واللہ اعلم