کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1. کیا جمعہ کی نماز کے لۓ جامع مسجد کا ہونا ضروری ہے ؟
2. اگر کسی ادارے میں مسجد نہ ہو اور کوئی حصہ ’’جائے نماز‘‘ کا ہو تو وہاں جمعہ کی نماز ادا کی جا سکتی ہے یا نہیں ؟
3. اگر ہم لوگ کسی ادارے کے ملازم ہیں اور یہاں صرف تین نمازوں کی جماعت ہوتی ہے اور جمعہ بھی ادا کرتے ہیں اور رمضان المبارک میں یہاں کوئی اعتکاف بھی نہیں کرتا اور یہاں کے امام صاحب کہتے ہیں کہ ان کے پاس کسی اچھے ادارے کے عالم کا فتوی موجود ہے ، جس کے مطابق یہاں نمازِ جمعہ ادا کی جا سکتی ہے، آپ کیا فرماتے ہیں ؟
علماءِ کرام مندرجہ بالا مسائل میں کیا کہتے ہیں واضح اور الگ الگ جواب تحریر مائیں
نوٹ : سائل سے فون پر رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ باقاعدہ مسجد نہیں ہے، بلکہ نماز کے لۓ ایک جگہ مختص کی ہوئی ہے، جس میں تین وقت کی نماز(ظہر، عصر، مغرب) باجماعت ادا کی جاتی ہے اور قریب میں پانچ منٹ کے فاصلے پر جامع مسجد بھی موجود ہے اور ساتھ میں کالونی بھی ہے اور یہ پورٹ قاسم پر الحاج موٹرز میں واقع ہے۔ فقط!
صحتِ جمعہ کے لۓ کسی جگہ کا باقاعدہ مسجد ہونا اور اس میں پنج وقتہ نماز کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ اس کے لۓ کچھ اور شرائط ہیں جیسے اس جگہ کا شہر یا مضافاتِ شہر میں ہونا وغیرہ ، اس لۓ مذکور مقام اگر شہر کی حدود میں ہو تو اس میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی جائز ہے، تاہم اگر کوئی واقعی مجبوری نہ ہو اور قریب میں مسجد بھی ہو تو وہاں جاکر نمازِ جمعہ پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیۓ تاکہ مسلمانوں کی شوکت کا مظاہر ہ ہونے کے علاوہ مسجد کا ثواب اور کثرتِ جماعت کا ثواب بھی مل جائے۔
في إعلاء السنن: عن علىؓ أنه قال: "لا الجمعة، ولا تشريق إلا في مصر جامع" اھ ( ۱/۸ )۔
و في صحيح مسلم: عن أبي الأحوص، قال: قال عبد الله: «لقد رأيتنا وما يتخلف عن الصلاة إلا منافق (إلی قوله) وقال: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم علمنا سنن الهدى، وإن من سنن الهدى الصلاة في المسجد الذي يؤذن فيه» اھ(1/ 453)۔
وفي الهداية: لاتصح الجمعة إلا فی مصر جامع أو فی مصلى المصر ولا تجوز في القرى لقوله عليه السلام لا جمعة ولا تشريق ولافطر ولا اضحی إلا فى مصر جامع اھ ( ۱/۱۹۸)۔
وفي الهندية: وکما يجوز أداء الجمعة في المصر یجوز أدائها في فناء المصر اھ (۱/۱۴۵)۔