کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ہمارے ہاں جمعہ کی نماز میں جب دوسری اذان ہوتی ہے، اس کے بعد جو خطبہ پڑھا جاتا ہے وہ عربی زبان میں پڑھا جاتا ہے، لیکن ہمارے گاؤں میں یعنی دیہات میں خطبہ عربی زبان میں بھی پڑھتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ سندھی زبان میں اس کا ترجمہ بھی پڑھتے ہیں, تو اس طرح کا خطبہ پڑھنا کچھ عربی زبان میں، کچھ سندھی زبان میں تو اس کے پڑھنے سے نماز ادا ہو جائےگی؟ حالانکہ علماءِ کرام یعنی بعض علماء کہتے ہیں کہ اس طرح کا خطبہ پڑھنا جائز تو ہے، لیکن مسنون نہیں، لہٰذا آپ ہی اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں کہ اس طرح کا خطبہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ والسلام
حضرت نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تعامل اور مواظبت سے خطبۂ جمعہ محض عربی زبان میں ہونا ثابت ہے ، لہٰذا خطبہ صرف عربی زبان میں ہی پڑھنا سنت ہے ، دوسری کسی زبان میں پڑھنا یا عربی میں پڑھ کر اس کا ترجمہ دوسری کسی زبان میں پڑھنا بلاشبہ خلافِ سنت، بلکہ بدعت ہے، اس سے احتراز لازم ہے، تاہم جب عربی خطبہ بھی پڑھا جاتا ہے تو اس صورت میں بھی نمازِ جمعہ درست کہلائےگی۔
فی الدر المختار: (كما صح لو شرع بغير عربية) (إلی قوله) وشرطا عجزه، وعلى هذا الخلاف الخطبة وجميع أذكار الصلاة. (1/ 483)۔
وقال محدث الهند الشيخ الشاہ ولي الله " نور اللہ مرقدہ، ولمّا لاحظنا خطب النبی ﷺ وخلفائه وهلّم جرّافتنقحنا وجود أشياء (الى قوله) وكون الخطبة عربية الخ وقال النووي في كتاب الاذكار ويشترط کونها(أی خطبة الجمعة وغيرها بالعربية) شرح الموطاء ،ماخوذ من جواہر الفقہ اھ(۱/۳۵۴)۔