کیا فرماتےہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم سندھ میں رہتے ہیں ، ہمارے گاؤں میں کل دس(۱۰) گھر ہیں اور یہ گاؤں شہر سے تقریباً چھ سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ ضروریاتِ زندگی خریدنے کے لۓ شہر جانا پڑتا ہے، آس پاس کوئی دکان نہیں ہے، اس صورت میں وہاں جمعہ ادا کرنا کیسا ہے؟ نیز ہمارے ہاں عیدین میں خطبہ پڑھ کر سندھی میں ترجمہ بھی کیا جاتا ہے آیا یہ درست ہے یا نہیں؟
مذکور گاؤں میں چونکہ جمعہ وعیدین کی شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہیں پائی جاتی، اس لۓ اس میں نمازِ جمعہ وعیدین ادا کرنا شرعاً جائز نہیں ، لہٰذا وہاں کے باشندوں پر وہاں رہتے ہوئے جمعہ کے بجائے نمازِ ظہر کا باجماعت ادا کرنا لازم ہے تاکہ فرض ذمہ سے ساقط ہوسکے جبکہ جمعہ کے قیام کی صورت میں فرض ذمہ سے ساقط نہ ہوگا اور بجائے فرض کے نفل کی جماعت کا اہتمام لازم آئیگا جو بلاشبہ ممنوع اور گناہ کی بات ہے۔
وفی الفتاوى الهندية: ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة. هكذا روى الفقيه أبو جعفر عن أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - وهو اختيار شمس الأئمة الحلواني، كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/ 145)۔
وفيها أيضاً: ومن لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة اھ (1/ 145)۔