محترم مولانا صاحب! اللہ تعالٰی آپ کو اس کام کی جزائے خیر عطاء فرمائے، میں خود دیوبندی ہوں،میرے دو سوال ہیں: مہربانی فرماکر آپ جواب دیں۔
(1)مجھے کسی نے کہاہے کہ دیوبندی کہتے ہیں کہ اگر آپ کو نماز میں حضرت محمد ﷺ کا خیال آئے اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ کو کسی گدھے کا خیال آجائے، اس کی حقیقت کیا ہے؟
(2)اشاعت التوحید والسنۃ (پنجپیری) عقیدہ اور مسلک کیا ہے ؟ میری رہنمائی کریں، شکریہ
(1)یہ سراسر بہتان ہے اس کا دیوبندی مسلک سے کوئی تعلق نہیں، البتہ حضرت سید احمد شہیدؒ کے ملفوظات جسے حضرت اسماعیل شہیدؒ اور مولانا عبد الحئیؒ نے ترتیب دیا اس کی عبارت کو کاٹ پیٹ کر اور اس کے اصلی معنی اور مفہوم سے صرف نظر کرکے اسے خانہ ساز معنی پہنا کر علماء دیوبند کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے، جو اس سے بری ہیں، تفصیل کےلئے ملاحظہ "عبارات اکابر" مولفہ: مولانا شیخ سرفراز خان صفدر صاحبؒ اور "دیوبند سے بریلی تک" مولفہ : مولانا اوصاف احمد صاحب ، وغیرہ۔
(2)سائل کو اشاعت التوحید والسنۃ جماعت کے کن کن عقائد و نظریات پر اعتراض ہے، اگر انکی صراحت کرکے اس سوال کو دوبارہ ای میل کردیا جائے تو اس کا حکم شرعی بھی بیان کردیا جائے گا۔
حضرت تھانویؒ، حضرت گنگوہی اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو بریلوی کہہ کر ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کرنا
یونیکوڈ اکابر حضرات" 1