کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے پچھلے دنوں تبلیغ والے بھائیوں کے ساتھ کچھ دن لگائے، لیکن میں حضرت حکیم الأمت مولانا اشرف علی تھانویؒ صاحب کی کتاب پڑھ رہا تھا تو انہوں نے مجھے منع کیا کہ ان لوگوں کی کتابیں نہ پڑھیں، صرف حضرت مولانا الیاس صاحبؒ کی کتابیں پڑھیں، کیونکہ یہ بریلوی مولوی تھے، پھر انہوں نے حضرت رشید احمد گنگوہیؒ کو اور ہمارے اکابرین علماء کو برا کہا تو آپ سے گزارش ہے کہ کیا حکیم الامت بریلوی تھے؟ حاجی امداد اللہ مکی صاحب، گنگوہی صاحبؒ کو بھی بریلوی کہا ، ان کے عقیدے بھی شرک والے تھے،صرف حضرت مولانا الیاس صاحبؒ اور مولانا زکریا صاحبؒ کی کتابیں پڑھا کرو ، میں ساری کتابیں پڑھتا ہوں،لیکن پوچھنا یہ ہے کہ کیا واقعی بڑے بڑے علماء ِکرام بھی بریلوی تھے اور کیا انکی کتابیں نہیں پڑھنی چاہیے؟ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور بزرگان علماء دیوبند کو بریلوی قرار دینا سراسر جھوٹ ہے اور ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے روکنا جہالت پر مبنی حرکت ہے، ایسے شخص کا تبلیغی جماعت سے دور کا بھی تعلق نہیں، لہٰذا اس کے شر سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ واللہ أعلم بالصواب!
حضرت تھانویؒ، حضرت گنگوہی اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو بریلوی کہہ کر ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کرنا
یونیکوڈ اکابر حضرات" 1