کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کا ایکسڈنٹ ہو جائے اور بہت زیادہ خون نکل جانے سے مر جائے تو آیا یہ شخص شہید ہے یا نہیں؟ اس کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہو یا مخالف کی غلطی کی وجہ سے ؟یا آپس میں غلطی کی وجہ سے انتقال ہوجائے تو کیا یہ اللہ کی طرف سے ہے؟
مذکور واقعہ بلاشبہ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اس میں مرنے والا شخص شہیدِ آخرت ہے، یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ اسے شہادت کا مقام و ثواب عطا فرمائیں گے، اِلّا یہ کہ اس نے قصداً اپنے آپ کو گاڑی کے نیچے آکر خودکشی کر لی ہو تو پھر یہ مرتبہ نہیں ہوگا۔
ففی الدر المختار: (لا) يصير مرتثا بشيء مما ذكر، وكل ذلك في الشهيد الكامل، وإلا فالمرتث شهيد الآخرة وكذا الجنب ونحوه، ومن قصد العدو فأصاب نفسه، و الغريق و الحريق و الغريب و المهدوم عليه و المبطون و المطعون و النفساء و الميت ليلة الجمعة و صاحب ذات الجنب و من مات و هو يطلب العلم، و قد عدهم السيوطي نحو الثلاثين اھ(2/ 252)۔