محترم مفتی صاحب! مندرجہ ذیل مسائل کے شرعی جواب درکار ہیں۔
ربیع الاول کے مہینہ میں بعض حضرات عید میلاد النبی کے نام پر جو کچھ کرتے ہیں وہ آپ جانتے ہیں اور ہر سال ایک نئی چیز کا اضافہ ہو رہا ہے، فی الوقت اس پر زور دیا جارہا ہے کہ بارہ ربیع الاول کے دن کو عید کا باقاعدہ تہوار بنایا جائے اور اس کی رات ( گیارہ اور بارہ کی درمیانی رات) کو بڑی رات کا نام دیکر خوب اہتمام سے مجالس قائم کی جائیں اور شب بیداری کرکے محفلِ قرآن، محفلِ نعت کااہتمام کیا جائے ، ہمیں ان تمام بدعتوں اور مشرکانہ افعال سے علماءِ دیوبند نے ہمیشہ منع کیا ہے اور مشرکین کی مشابہت سے بچنے کا سبق دیا ہے ، مگر افسوس کہ علماءِ دیوبند سے منسلک ادارے اور تنظیمیں بھی اس بدعتوں کے سیلاب سے متاثر ہو رہی ہیں ، گزشتہ چند سالوں سے اس رات میں خصوصاً اور ماہ ربیع الاول میں عموماً بڑے بڑے مدارس میں محفلِ قرآن کی تقریبات ہوتی ہیں ، ہمیں یہ سارے کام مشرکین اور بدعتیوں سے مشابہت معلوم ہوتی ہے اور بعض جگہ پر بریلوی حضرات دلیل کے طور پر ہمارے مدارس کے اس عمل کو کھول کھول کر بیان بھی کرتے ہیں ، آپ ان ایام میں ولادت کی ان تمام تقریبات کے بارے میں چاہے عید میلاد النبی کا نام لیکر یا بغیر نام لیےہو رہی ہوں، کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ، واضح رہے کہ ہمیں اشکال محفلِ قرآن پر نہیں، بلکہ اس نام نہاد بڑی رات کو مقرر کرکے محفلِ حسنِ قرأت منعقد کرنے پر ہے۔
اگر چہ علماءِ دیوبند میں سے اس ماہ مجالس منعقد کرنے والوں کی غرض ، مشابہت اور اس رات کے زیادہ باعثِ ثواب ہونے کا نظریہ نہیں، جو ان کی تحریر و تقریر سے ثابت ہے، مگر اس عمل سے اگر مذکور نظریہ کو تقویت ملتی ہو اور عوام کے اعتقاد خراب ہونے کا اندیشہ ہو، تو مذکور ماہ کے بجائے کسی دوسرے ماہ و تاریخ میں اس قسم کی محافل کا اہتمام کرنا چاہیے۔
فی مرقاة المفاتيح : قال الطيبي : و فيه أن من أصر على أمر مندوب ، و جعله عزما ، و لم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال اھ(2/ 755)۔
و فی فتح الباری : ان المندوبات قد تنقلب مکروھات اذا رفعت عن رتبتھا لان التیامن مستحب فی کل شیء ای من امور العبادات لکن لما خشی ابن مسعود ان یعتقدوا وجوبه اشار الی کراھته اھ(ج2ص338)۔
و فی الدر : صاحب بدعة و هي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول اھ
و فی رد المحتار : تعريف الشمني لها بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة و استحسان ، و جعل دينا قويما و صراطا مستقيما اهـ فافهم اھ(1/560)۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1