کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام" فکرشاہ ولی اللہ" کی تنظیم کے بارے میں جن کے عقائد مندرجہ ذیل ہیں :
1۔داڑھی کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیۓ۔
۲۔نماز کا درجہ صرف ’’سبحان اللہ‘‘ کیطرح ہے ،یعنی نماز چھوڑنے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
۳۔ صحابہ کرام معیارِ حق نہیں ہے۔
۴۔ جنت اور دوزخ من گھڑت خیالات ہیں۔
۵۔ قرآن مجید نے جو حدودِ اسلام بیان کیے ہیں ، مثلا رجم ،قصاص وغیرہ ، یہ بالکل بےکار ہے ، بلکہ مجرموں کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق سزا دینی چاہیۓ۔
۶۔ مدارس اور مساجد بنانا فضول اور عبث کام ہے ، اس کی جگہ پر یونیورسٹی اور اسکول بنانا افضل ہے ۔
۷۔ بغیر اسباب کے اللہ تعالیٰ کسی کام کے کرنے پر قادر نہیں ۔
۸۔ مودودی نے جو صحابہ کرام پر الزامات عائد کۓ ہیں، وہ درحقیقت صحیح ہیں ، خواہ مخواہ مودودی پر نکتہ چینی کرنا بےجا اور عبث ہے۔
۹۔ جہاد ایک تشدد اور وحشیانہ عمل ہے۔
۱۰۔ جب معاشرہ صحیح ہوجائے ، اس وقت شرعی پردہ کی کوئی ضرورت نہیں ، عورتوں کو آزاد پھرنے کا حق حاصل ہے۔
۱۱۔ اس وقت علماءِ کرام معاشرہ پر اس طرح بوجھ بنے ہوئے ہیں جس طرح حضورؐ کے زمانے میں کتے معاشرے کیلۓ بوجھ تھے اور حضورؐ نے اُن کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا تھا ، لہٰذا اس دور کے علماءِ کرام کو قتل کرنا ضروری ہے۔
۱۲۔ بعض انبیاء سے عارضی طور پر شرک صادر ہوا ہے۔
ان عقائد کی حامل مذکور تنظیم کا شرعاً کیا حکم ہے؟اسمیں شمولیت جائز ہے یا نہیں؟
سوال میں جن خیالات و افکار اور عقائد کا ذکر ہے ، اگر واقعۃً کسی تنظیم میں پائے جاتے ہوں تو وہ لوگ بلاشبہ زندیق اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ، ایسی تنظیم میں شمولیت اختیار کرنا ،اُن کا رکن بن کر مسلمانوں میں افتراق و انتشار پھیلانے کے مترادف ہے جو بہر حال ناجائز و حرام ہونے کیساتھ اپنے آپ کو عذابِ خداوندی کا مستوجب بنانا ہے جو کسی بھی ذی شعور اور عقل مند کا کام نہیں، اس لۓ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے زندیق و مرتد لوگوں کیساتھ تعلق قائم کرنے کے بجائے اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں اور مسلمان حکمرانوں پر بھی لازم ہے کہ ایسے مفسدین کو قرارِ واقعی سزادیں، تا کہ اسلامی معاشرہ ایسے لوگوں کی شرارت اور ارتداد سے محفوط رہ سکے۔
فی الشامية : فإنّ الزندیق یموہ کفرہ و یروج عقیدته الفاسدة و یخرجھا فی الصورة الصحیحة اھ(4/242)۔
و فی الھندية : او لم یرض بسنة من سنن المرسلین فقد کفر اھ(2/263)۔
و فیھا ایضا : و إن أنكر فرضية الركوع و السجود مطلقا يكفر اھ(2/269)۔
و فیھا ايضا : من أنكر القيامة ، أو الجنة ، أو النار ، (إلی قوله) يكفر اھ(2/274)۔
و فیھا ايضا : يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به (الی قوله) أو العجز اھ(2/258)۔
و فی الشامية : إذا كان يسب الشيخين و يلعنهما فهو كافر (الی قوله) و سب أحد من الصحابة و بغضه لا يكون كفراھ(4/237)۔
و فیھا ايضا : و يخاف عليه الكفر إذا شتم عالما ، أو فقيها من غير سبب اھ(2/270)۔
و فی بحر الرائق : و بعدم الاقرار ببعض الانبیاء او عیبه نبیا بشئ (الی قوله)کفر اھ(5/120)۔