کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نام حاکم علی ہے ،میری سالی کیلۓ ایک ایسے لڑکے کا رشتہ آیاہے جن کا تعلق "فرقہ گوہر شاہی"سے ہے، مجھے یہ معلوم تھا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ تعلقات نہیں رکھنے چاہیۓ، اس وجہ سے میں نے سسر سے کہا کہ اگر آپ نے ان لوگوں سے رشتہ قائم کیا اور انہیں اپنی بیٹی کا رشتہ دیا تو میں آپ کے گھر نہیں آؤں گا اور تعلق ختم کردونگا تو میرے سسر صاحب نے کہا کہ اگر ایسے لوگوں سے رشتہ درست نہیں تو آپ مجھے کوئی مستند فتویٰ لا کر دکھائیں تو وہاں ہم رشتہ نہیں کرینگے ، تو براہِ کرم ہماری اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ اس فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کیساتھ تعلقات اور رشتہ قائم کرنا کیسا ہے؟ تاکہ ہم اس سے بچ سکیں ،اور یہ بھی واضح ہو کہ وہ لوگ جہاں رہتے ہیں، وہاں سارے اس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں،لہٰذا ہمیں ان لوگوں کے عقائد کے بارے میں بتائیں اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور تعلقات قائم کرنے سے متعلق شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں۔
"فرقہ گوہر شاہی" جس کا حقیقی نام ’’انجمن سرفروشانِ اسلام‘‘ ہے اور اس کا بانی ریاض احمد گوہر شاہی ہے ، جو کہ انتہائی خطرناک اور گمراہ کن عقائد کا حامل ہے، انبیاء علیہم السلام کے متعلق توہین آمیز کلمات بھی کہہ چکا ہے ،ذیل میں اس کے چند گمراہ کن عقائد ملاحظہ فرمائیں:
(1)نماز ،روزہ ،حج،زکوۃ ، اور عبادات میں روحانیت نہیں ، روحانیت کا تعلق دل کی ٹک ٹک کے ذریعہ اللہ اللہ کرنا ہے۔
(2)قرآن پاک کے تیس پاروں کے بجائے چالیس پارے ہیں اور اضافی دس پارے ان تیس پاروں سے مختلف مضامین پر مشتمل ہیں۔
(3)اس کا کہنا ہے کہ میری تصویر چاند ،سورج ،اور حجر اسود پر ظاہر ہو چکی ہے، جو اس کا انکار کرتا ہے ،وہ اللہ کی بڑی نشانیوں کو جھٹلاتا ہے۔
(4) انبیاء علیہم السلام میں سے حضرت آدم علیہ السلام کو حسد اور شرارت نفس کا مریض قرار دیتا ہے۔
(5) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کو آپؑ کے جسم اطہر سے خالی اور شرک کا اڈہ قرار دیتا ہے۔
(6) اس کا عقیدہ ہے کہ اللہ مجبور ہے اور شہ رگ کے پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا۔
(7) اس کا عقیدہ ہے کہ بغیر ایمان اور کلمہ پڑھے اللہ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
لہٰذا ایسے عقائد رکھنے والا شخص اور اس کے متبعین ضال ،مضل اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، ایسے لوگوں کیساتھ میل جول رکھنا اور رشتہ ناطہ کرنا جائز نہیں ، لہٰذا سائل اپنےسسرال والوں کو خصوصاً اور دیگر اہلِ اسلام کو عموماً اس فتنہ کی سرکوبی اور ان کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کرنے کی فکر کرنی چاہیۓ ۔
فی الشامية : (قوله : و حرم نكاح الوثنية) و في الفتح : و يدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس و النجوم و الصور التي استحسنوها و المعطلة و الزنادقة و الباطنية و الإباحية . و في شرح الوجيز و كل مذهب يكفر به معتقده اھ(3/45)۔
و في الفتاوى الهندية : سئل عمن ينسب إلى الأنبياء الفواحش كعزمهم على الزنا و نحوه الذي يقوله الحشوية في يوسف عليه السلام قال : يكفر ؛ لأنه شتم لهم و استخفاف بهم قال أبوذر من قال : إن كل معصية كفر ، و قال مع ذلك أن الأنبياء عليهم السلام عصوا فكافر ؛ لأنه شاتم ، و لو قال : لم يعصوا حال النبوة و لا قبلها كفر ؛ لأنه رد المنصوص اه(17/ 144)۔