کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گاؤں جس کی آبادی ۳۰۰۰ کے قریب ہے اور اس میں کچھ دکانیں بھی ہیں،جن میں ضروری اشیاءمل جاتی ہیں، لیکن مستقل شہر یا بازار وغیرہ نہیں ہے، بلکہ ہر محلہ میں ایک دو دکانیں موجود ہیں، موجودہ دور کے مطابق گاؤں میں ایک مستقل یونین کونسل کا ممبر بھی ہے، اس کے علاوہ گاؤں میں ایک پنچائت بھی ہے جو لوگوں کے درمیان فیصلے وغیرہ کرتی ہے، گاؤں میں ایک پرائمری اسکول لڑکوں کا اور مڈل اسکول لڑکیوں کا بھی ہے اور ایک ڈاکٹر صاحب بھی ہر دوسرے دن گاؤں کا چکّر لگاتے ہیں، اس صورت میں اس گاؤں میں جمعہ پڑھنا کیسا ہے؟ جبکہ گاؤں میں تین مساجد ہیں اور ایک جامع مسجد ہے جس میں تقریباً بیس سال سے جمعہ ہو رہا ہے اور یہ جمعہ گاؤں میں لوگوں نے خود ہی شروع کیا تھا، جب مسجد میں لاؤڈ اسپیکر لگ گئے تو جمعہ بھی شروع ہو گیا۔
مذکورہ گاؤں اپنی آبادی اور مذکور متعلقہ امور کی بناء پر قریۂ کبیرہ کے حکم میں ہے، اس لۓ اس میں قیامِ جمعہ شرعاً جائز ہے ،بلاوجہ شکوک میں پڑنے سے احتراز چاہیۓ۔
فی اعلاء السنن: قال علیؓ:لا جمعة ولا تشریق ولا فطر ولا أضحیٰ إلا فی مصرٍ جامع مدینة عظیمة اھ (۱/۸)۔
وفی حاشية ابن عابدين: عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ(2/ 137)۔