کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں پانچ مساجد ہیں، بڑی مسجد میں لوگ جمعہ کی نماز شروع کروارہے ہیں اور جبکہ مذکور گاؤں میں فقط پانچ دکانیں اور ایک پولیس چوکی اور آبادی تقریباً ۱۸۰ ہوں گے اور اگر جمعہ کی نماز شروع کی تو گاؤں کے آس پاس کے لوگ اور ایسے ہی دوسرے گاؤں کے لوگ بھی آئیں گے اور جبکہ اس گاؤں میں ضروریاتِ زندگی کا سامان مہیا نہیں بلکہ شہر میں جاکر لینا پڑتا ہے، تو اب اس گاؤں والوں کو اس مسجد میں نمازِ جمعہ شروع کرنی چاہیۓ یا کیا کریں؟
تفصیل سے حکم بیان فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں۔
اصل یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں اور شہر و قصبات میں صحیح ہے قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب ہو یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں چالیس، پچاس دکانیں متصل ہوں، بازار روزانہ لگتا ہو اور اسی بازار میں ضروریاتِ روزمرہ کی ملتی ہوں، مثلاً جوتے کی دکان بھی ہو اور کپڑے کی بھی ہو، بزاز کی بھی ہو، غلہ کی بھی ہو اور دودھ گھی کی بھی اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو، معمار و مستری بھی ہو اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ اور چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں گے وہاں جمعہ صحیح ہوگا، ورنہ صحیح نہ ہوگا اور سوال میں مذکور گاؤں چونکہ قصبہ کی تعریف میں داخل نہیں اس لئے مذکور گاؤں میں جمعہ شرعاً درست نہیں لہٰذا وہاں کے باشندوں پر وہاں رہتے ہوئے جمعہ کے بجائے نمازِ ظہر کا باجماعت ادا کرنا لازم ہے تاکہ فرض ذمہ سے ساقط ہوسکے جبکہ جمعہ کے قیام کی صورت میں فرض ذمہ سے ساقط نہ ہوگا اور بجائے فرض کے نفل کی جماعت لازم آکر کئی ایک مفسدوں کا باعث بنے گی جس سے احتراز لازم ہے۔
وفی اعلاء السنن: قال علیؓ لا جمعۃ ولا تشریق ولا فطر ولا اضحی الا فی مصر جامع او مدینۃ عظیمۃ۔(ج۱، ص۸)۔
وفی الشامیۃ: عن ابی حنیفۃؒ انہ بلدۃ کبیرۃ فیہا سکک واسواق ولہا رساتیق وفیہا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما یقع من الحوادث وہذا ہوالاصح۔ (ج۲، ص۱۳۷)۔