کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ مسجد ’’اصحابِ بدر‘‘ ناظم آباد، چار منزل پر قائم ہے، تقریباً پانچ سو سے زائد نمازیوں کی گنجائش ہے لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ جمعہ کے روز نمازی حضرات سڑک پر چٹائیوں پر نماز ادا کرتے ہیں جو وقتی طور پر رکھی گئی ہیں جبکہ مسجد میں کافی جگہ ہوتی ہے اور بار بار توجہ بھی دلائی جاتی ہے، نیز نچلے حصۂ مسجد اور سڑک کے درمیان خلا، جو بوجۂ وضو خانہ وغیرہ کے تقریباً چار صف ہے۔
لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان باہر والے حضرات کی کیا نماز درست ہوجاتی ہے؟ نیز ثواب میں تو کمی نہیں آتی؟ بینوا توجروا
صورتِ مسئولہ میں مذکور مسجد کے نمازیوں کو چاہیۓ کہ وقت پر آنے کا اہتمام کریں اور سڑک پر نماز پڑھنے کے بجائے مسجد میں نماز ادا کریں اس لئے کہ سڑک پر نماز پڑھنے سے مسجد کی نماز کا ثواب نہیں ملتا، اور خصوصاً جبکہ مسجد میں گنجائش بھی ہے تو باہر نماز پڑھنے سے احتراز کریں۔
البتہ کسی مجبوری کی بناء پر اگر آنے میں دیر ہوجائے اور مسجد میں بھی گنجائش نہ ہو یا گنجائش تو ہو مگر تیسری، چوتھی منزل تک پہنچے میں جمعہ کی نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں نچلی منزل کے دروازہ کے سامنے خالی جگہ (جو جنگلے کے اندر ہے اس میں بھی) چند آدمی کھڑے ہوکر اتصالِ صفوف کرلیا کریں تاکہ باہر سڑک پر پڑھنے والوں کی نماز بھی بلاشک و شبہ کے ادا ہوجائے، نیز جب جماعت کھڑی ہوجائے تو باہر سے آنے والے درمیانی راستہ کے خَلا کو بھی پر کردینا ضروری ہے۔