کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جس کو تاوان کیلئے اغوا کیا جاتا ہے اور تاوان نہ ملنے کی وجہ سے اس مغوی شخص کو قتل کردیا جاتا ہے، تو اس صورت میں قتل ہونے والا شخص ’’شہید‘‘ کہلائے گا ؟ اگر وہ شہید کہلائے تو اس بارے میں قرآن و حدیث سے کیا ثبوت ملتا ہے؟ برائے مہربانی مفصل جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمادیں۔
اگرچہ ایسا شخص بھی شرعاً شہید کہلاتا ہے مگر یہ شہادت باعتبارِ آخرت کے ہے دنیاوی معاملات اور احکام میں وہ عام مردوں کے حکم میں ہوگا یعنی اسے غسل دیا جائے گا اور کفن بھی پہنایا جائے گا۔البتہ بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بھی مرتبۂ شہادت سے نوازیں گے۔
والمراد بشہید الآخرۃ من قتل مظلومًا۔ اھـ (رد المحتار: ج۲، ص۲۵۲)-
وفی سنن الترمذی: عن سعید بن زید بن عمرو بن نفیل عن النبی ﷺ قال: من قتل دون مالہ فہو شہید۔ (الجامع الترمذی: ج۱، ص۲۶۱)-